لاہور( پاک ترک نیوز) فیس بک پر کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، کیونکہ آج کی ایک عام سی پوسٹ مستقبل میں آپ کی پرائیویسی اور آن لائن سکیورٹی کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔
ذرا تصور کریں کہ برسوں پہلے کسی دوست سے ہونے والے جھگڑے یا کسی ذاتی معاملے پر کی گئی آپ کی پبلک پوسٹ، اے آئی سرچ کے ذریعے چند سیکنڈ میں دوبارہ سامنے آ جائے۔ یقیناً یہ صورتحال بہت سے صارفین کے لیے غیر متوقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فیس بک اپنے سرچ سسٹم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نئی تبدیلیاں متعارف کرا رہا ہے، جن کے بعد سرچ بار صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک چیٹ اسسٹنٹ کی طرح سوالات کے جواب دے سکے گا۔
اس نئے فیچر کی مدد سے صارفین کئی سال پرانی عوامی پوسٹس، تبصرے اور دیگر دستیاب معلومات کو سوال و جواب کی صورت میں آسانی سے تلاش کر سکیں گے، جبکہ وہ معلومات بھی چند لمحوں میں سامنے آ سکیں گی جو پہلے ہزاروں پوسٹس میں تلاش کرنا مشکل تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فیچر معلومات تک رسائی کو پہلے سے زیادہ آسان بنا دے گا، تاہم اس کے ساتھ رازداری، ڈیٹا پرائیویسی اور آن لائن سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون کی لت کتنی خطرناک؟
ان کے مطابق اگر عوامی پوسٹس کو اے آئی کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں تلاش اور تجزیہ کیا جانے لگا تو سائبر فراڈ میں ملوث عناصر بھی صارفین کی معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ذاتی نوعیت کی معلومات پر مشتمل پوسٹس کو پبلک رکھنے کے بجائے صرف Friends یا محدود آڈینس تک رکھیں۔ اس مقصد کے لیے فیس بک کی Settings میں موجود Limit Past Posts فیچر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پرانی پبلک پوسٹس کو بھی صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی معلومات پر مناسب احتیاط نہ صرف آپ کی پرائیویسی کا تحفظ کرتی ہے بلکہ ممکنہ سائبر خطرات سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔]











