ربط ( پاک ترک نیوز) مراکش کے جنوب مغربی علاقے کے دیہاتوں نے پانی کے حصول کے لیے ایک منفرد اور ماحول دوست طریقہ اختیار کر لیا ہے، جہاں بغیر بجلی، پمپ یا زمین میں کھدائی کے فضا سے براہِ راست پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔
آئت باآمرانے کے علاقے میں بحرِ اوقیانوس سے آنے والی دھند کو خصوصی پولیمر جالوں کے ذریعے پانی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ جال سطح سمندر سے بارہ سو میٹر سے زائد بلندی پر واقع جبل بوتمزگوئیدہ کی ڈھلوانوں پر نصب ہیں۔
دھند کے ننھے قطرات جال میں جمع ہو کر پانی کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر کششِ ثقل کے ذریعے ذخیرہ گاہوں تک پہنچتے ہیں، جہاں سے پائپ لائنوں کے ذریعے پانی براہِ راست گھروں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پورے نظام میں بجلی یا پمپوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس منصوبے کی نگرانی غیر سرکاری تنظیم دار سی حماد کر رہی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی خصوصاً خواتین کی زندگی میں نمایاں آسانی آئی ہے۔ ماضی میں خواتین کو پانی لانے کے لیے روزانہ کئی گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی صحرا زدگی کے اثرات سے نمٹنے کی ایک مؤثر مثال بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی مئی 2026 میں اسے موسمیاتی موافقت کے بہترین منصوبوں میں شامل کیا ہے۔
یہ جدید نظام دراصل 1980 کی دہائی میں چلی کے صحرائے اٹاکاما میں ہونے والی ایک سائنسی دریافت سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا، جہاں محققین نے خشک ترین علاقے میں جالی پر جمع ہونے والے پانی کے قطروں کا مشاہدہ کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مراکش کے ساحلی اور پہاڑی جغرافیے نے اس ٹیکنالوجی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور مستقبل میں پانی کی قلت سے دوچار دیگر ممالک بھی اس ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں










