لاہور( پاک ترک نیوز) موسم گرما میں جسم میں پانی کی کمی ہونا عام سی بات ہے، موسم گرما میں جسم سے پسینہ عام دنوں کی نسبت زیادہ تیزی اور کثرت سے خارج ہوتا ہے، بعض اوقات ہم روزمرہ کے کاموں میں مناسب مقدار میں پانی پینا بھول بھی جاتے ہیں۔ خاص طور پر موسم گرم ہو تو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کے باعث جسم میں موجود نمکیات میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔
موسم گرما میں پسینہ زیادہ آنے کے باعث جسم سے پانی اور نمکیات تیزی سے خارج ہوتے ہیں۔۔۔ ماہرین غذائیت کے مطابق اگر جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجائے تو کمزوری، چکر، تھکن اور بلڈ پریشر میں کمی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ خوراک میں پانی سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کا استعمال ڈی ہائیڈریشن سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔۔۔ تربوز، خربوزہ اور گرما نہ صرف جسم کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ان میں موجود پوٹاشیم اور وٹامنز توانائی بھی بحال رکھتے ہیں۔۔۔کھیرے کو گرمیوں کی بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے۔۔۔ ماہرین کے مطابق کھیرے میں پانی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کے خلیات میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
موسم گرما میں ناریل پانی کا استعمال بھی بہترین ہے۔ یہ قدرتی اجزاء سے بھرپور اور نمک کی ایک خاص مقدار پر مشتمل ہوتاہے، جو توانائی بحال کرتا ہے۔ ناریل کا پانی ایک بہترین اور لذیذ مشروب ہے، تاہم یہ مقدار میں کم ہوتا ہے، ایسے میں اس کی مقدار میں اضافے کے لیے اس میں تازہ پانی بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین غذائیت گرمیوں میں کچی لسی کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ کچی لسی پینے سے گرمی دور ہوتی ہے، یہ نمکیات کی کمی پوری کرنے والا مشروب ہے، جو بلڈپریشر کی کمی یا گرمی کی وجہ سے آنے والی نیند کو بھی دور بھگاتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی نمکین کچی لسی سے نہ صرف ہاضمہ درست رہتا ہے بلکہ یہ گرم ہوا یا لُو کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ پروٹین اور دیگر غذائیت سے بھرپور دہی نہ صرف آپ کی بھوک مٹاتا ہے اور آپ کو نمکین، زیادہ کیلوری والے کھانے سے دور رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
دہی معدے کی صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریاز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ دہی کےاستعمال سے معدے کی گرمی میں کمی آتی ہے جبکہ نظام ہاضمہ اور دیگر اعضاء بھی فعال ہوتے ہیں۔ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے فالسے کا استعمال بھی بہترین ہے۔
فالسے کا شربت گرم موسم میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں مددگار اور معدے کے لیے بھی بہترین ہے، جو جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی دور کرتا ہے۔’
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں روزانہ دو سے تین لیٹر پانی پینا ضروری ہے۔۔۔سخت دھوپ سے آنے کے فوراً بعد نہانے سے گریز اور کولڈ ڈرنکس و غیر معیاری جوسز سے پرہیز بھی صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مناسب غذا، پانی اور احتیاطی تدابیر اپنا کر گرمی کے موسم میں جسم کو ہائیڈریٹ اور توانا رکھا جاسکتا ہے۔۔۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ شدید گرمی میں پانی، قدرتی مشروبات اور صحت بخش غذاؤں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جائے تاکہ ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل سے محفوظ رہا جاسکے۔












