لاہور( پاک ترک نیوز) ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران ماہرینِ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،ماہرین کا کہناہے جسم میں پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے پیدا ہونے والی دیگر طبی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق شدید گرمی میں پسینے کے ذریعے جسم سے بڑی مقدار میں پانی اور ضروری نمکیات خارج ہو جاتے ہیں، جن کی بروقت تلافی نہ ہونے کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی، کمزوری، چکر آنا، سر درد، تھکن اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں روزانہ کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پینا چاہیے، جبکہ دھوپ میں زیادہ دیر رہنے یا جسمانی مشقت کرنے والے افراد کو اس سے بھی زیادہ پانی استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک ہی وقت میں زیادہ پانی پینے کے بجائے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین نے پانی سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کے استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے مطابق تربوز، کھیرے، مالٹے اور اسٹرابیری نہ صرف جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرتے ہیں بلکہ ان میں موجود وٹامنز اور معدنیات مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کافی اور چائے جیسے کیفین والے مشروبات جسم سے پانی کے اخراج میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس لیے شدید گرمی میں ان کا استعمال محدود رکھا جائے اور ان کی جگہ تازہ پھلوں کے جوس، لسی اور دیگر قدرتی مشروبات کو ترجیح دی جائے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ایک گلاس پانی میں معمولی مقدار میں نمک اور لیموں شامل کر کے پینا قدرتی الیکٹرولائٹ مشروب کا کام کرتا ہے، جو پسینے کے ذریعے ضائع ہونے والے نمکیات کی تلافی میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ دہی اور لسی بھی جسم کو ضروری معدنیات فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے،عطا تارڑ
ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی میں ہلکے رنگ کے سوتی اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے جائیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت متوازن رہے اور پسینہ کم آئے۔ اس کے علاوہ دوپہر بارہ بجے سے شام چار بجے تک، جب سورج کی تپش اپنے عروج پر ہوتی ہے، غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے اور حتیٰ الامکان سایہ دار یا ٹھنڈی جگہوں پر قیام کیا جائے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق شدید پیاس، منہ کا خشک ہونا، سر درد، غیر معمولی تھکن اور پیشاب کی مقدار میں کمی جسم میں پانی کی کمی کی نمایاں علامات ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر پانی اور دیگر مناسب مشروبات کا استعمال بڑھا دینا چاہیے اور اگر طبیعت میں بہتری نہ آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ شدید گرمی کو معمولی نہ سمجھیں، مناسب مقدار میں پانی پئیں، متوازن غذا استعمال کریں، دھوپ سے بچیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل سے محفوظ رکھیں۔












