پشاور ( پاک ترک نیوز) خیبر پختونخوا کا تقریباً2250ارب کا ٹیکس فری بجٹ آج پیش کیا جائے گا،محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سالانہ ترقیاتی گروگرام کیلئے 575ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں7فیصد اضافہ کیساتھ 2022اور2025کے ایڈہاک ریلیف کو ضم کیا جائیگا،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے پنشن میں بھی 7فیصد اضافہ کا امکان ہے۔
نئے مالی سال کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے مجموعی طور پر1671ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں159ارب، پن بجلی منافع اور بقایاجات کے100ارب شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق سال بھر کے دوران صوبہ کے اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ150ارب روپے لگایا گیا ۔ بجلی کےخالص منافع کی مد میں بقایاجات سمیت100 ارب روپےسےزیادہ ملنے کا امکان ہے۔صوبائی حکومت کو اپنے وسائل سے 150 ارب روپے کی آمدن کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے334 ارب روپےمختص کئےجانےکاامکان ہے،غیرملکی ترقیاتی پروگرام امداد کا حجم 150 ارب روپے سے زیادہ ہوگا،بندوبستی اضلاع کیلئےبجٹ کا تخمینہ 1971 ارب روپے لگایا گیا
یہ بھی پڑھیں: لگژری گاڑیوں پر اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ
بجٹ میں 1545 ارب روپےجاری اخراجات جبکہ 426 ارب روپےترقیاتی منصوبوں پرخرچ کئے جائیں گے، بجٹ میں صحت کارڈ کیلئے 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسپتالوں میں ادویات کی مد میں 15 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
بجٹ میں کالجز اور یونی ورسٹیوں کے طلباء کو بلاسود قرضےدینےکی بھی تجویز ہے،چھوٹی صنعتوں کو 50 فیصد مارک اپ پر قرضہ دئیے جائیں گے۔ بجٹ میں خواتین کو روزگار اور ملک سے باہر جانے والے افراد کو بھی بلاسود قرضے دینے کی تجویز ہے۔












