جنیوا : (پاک ترک نیوز)ایران کے وزیرِ خارجہ عباسعراقچی نیوکلیئر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں، جن کا مقصد امریکی حکام کے ساتھ کشیدگی کم کرنا اور کسی ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلے ہی انتباہ کیا تھا کہ یہ معاملہ اگر قابو سے باہر گیا تو پورے خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
عراقچی نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا: میں جنیوا میں موجود ہوں اور حقیقی اور منصفانہ معاہدے کے حصول کے لیے سنجیدہ خیالات کے ساتھ آیا ہوں۔ جو کچھ میز پر نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ہم دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔”
مذاکرات کے دوران عراقچی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تکنیکی اور مفصل تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی نیوکلیئر نگرانی ایجنسی نے ایران کے اہم نیوکلیئر مراکز تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے، جو جون میں امریکی اور اسرائیلی بمباری میں شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ایران نے اس دوران تابکاری کے خطرے کے حوالے سے حفاظتی پروٹوکول کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عراقچی اپنے عمانی ہم منصب بدر بن حمد البوسائیڈی سے بھی ملاقات کریں گے، جنہوں نے مذاکرات کے پہلے دور میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکا کی یورینیم کی انرچمنٹ ختم کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا اور اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتا ہے، جس پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دریں اثنا، امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی "سب سے بہتر چیز ہو سکتی ہے” اور دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھی بھیجا ہے۔












