لاہور (پاک ترک نیوز)
لاہور:(پاک ترک نیوز) ہیٹر بغیرفوری طور پر کمرے کو گرم کر دیتا ہے، مگر اگر اسے غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہی سہولت بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ہر سال موسمِ سرما میں ہیٹر کے باعث آگ لگنے، کرنٹ لگنے اور دم گھٹنے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں ہیٹر کا غلط استعمال، اوورلوڈنگ اور حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کرنا شامل ہے۔
چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاً روم ہیٹر ہمیشہ سیدھی اور مضبوط جگہ پر رکھنا چاہیے۔ اسے پردوں، بستر، کمبل، لکڑی کے فرنیچر اور کاغذ جیسی اشیاء سے کم از کم تین فٹ دور رکھنا ضروری ہے۔
غیر ہموار یا اونچی جگہ پر رکھا گیا ہیٹر گرنے کی صورت میں آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔ الیکٹرک ہیٹر کو براہِ راست دیوار کے ساکٹ میں لگائیں اور ایکسٹینشن بورڈ یا ملٹی پلگ کا استعمال نہ کریں، بصورتِ دیگر شارٹ سرکٹ اور کرنٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خراب تاروں یا ڈھیلے پلگ والے ہیٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں۔سردی سے بچنے کے لیے اکثر لوگ کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند کر لیتے ہیں، جس سے آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے۔
خاص طور پر گیس یا مٹی کے تیل والے ہیٹر استعمال کرتے وقت زہریلی گیس کے جمع ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے کمرے میں مناسب وینٹی لیشن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق سوتے وقت ہیٹر آن رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سونے سے پہلے کمرہ گرم کر کے ہیٹر بند کر دیا جائے۔ ہیٹر کو زیادہ دیر تک مسلسل چلانے سے اوورہیٹنگ بھی ہو سکتی ہے، اس لیے وقفے وقفے سے اسے بند کرنا چاہیے۔
چھوٹے بچوں اور پالتو جانوروں کو ہیٹر کے قریب نہ جانے دیں، کیونکہ جلنے یا ہیٹر کے گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ہیٹر پر کپڑے سکھانا آگ لگنے کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
اگر ہیٹر سے جلنے کی بو آئے، دھواں نکلے یا چنگاری محسوس ہو تو فوراً اسے بند کر کے پلگ نکال دیں۔
تھوڑی سی احتیاط اور درست عادات اپنا کر روم ہیٹر کو محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سردیوں میں گرمائش بھی حاصل ہوگی اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ بھی ممکن ہو سکے گا۔










