
از: سہیل شہریار
امریکی اور ترک حکام کے حالیہ بیانات ایک ایسے منظر نامے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں انقرہ پانچویں نسل کے F-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ داخلے کی شرط کے طور پرروسی S-400 فضائی دفاعی نظام کو ترک کر سکتا ہے۔ اگر ایساہوتا ہے، تو یہ ترکیہ کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرے گا اور نیٹو کے اندر تزویراتی لحاظ سے تعلقات کی تعمیر نو کا دروازہ کھول دے گا۔ گذشتہ برس2024 کے وسط میں ترک وزیر دفاع یاسر گولر نےکہا تھاکہ ترکیہ کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے قان کی تیاری کے پروگرام میں خاطرخواہ پیش رفت کے بعد امریکی پوزیشن میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نےترک پارلیمنٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی چھ ایف۔ 35 موجود ہیں ۔ اب امریکہ کا موقف بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔چنانچہ ہم نےایف۔ 35 خریدنے کے لیے اپنی پیشکش دوبارہ بھجوادی ہے۔
ترکیہ نے اصل میں ایک سوایف۔ 35 اے جہاز خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس پروگرام میں ایک صنعتی پارٹنر کے طور پربھی شریک تھا۔ جس میں دس مقامی کمپنیاں شامل تھیں۔ 2018 میںترکیہ کے لیے پہلےایف۔ 35 نے ٹیکساس سے اپنی پہلی اڑان لی تھی جس کے بعد انقرہ کو کل چھ جہاز ہی ملے تھے۔ جب 2019میںترکیہ کے روس سےایس ۔ 400 فضائی دفاعی نظام کے حصول کے بعدنہ صرف ایف۔ 35 ہوائی جہازوں کی ترسیل روک دی گئی۔ساتھ ہی اس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئےایف۔ 35 کی پیداوار کے پروگرام سے بھی الگ کر دیا گیا۔
امریکہ اور ترکیہ کے پاس نیٹو کی دو بڑی مسلح افواج ہیں۔ترکیہ کی جانب سے اپنے روسی ایس۔ 400 فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنے کے اشارے دینےسے امید کی جارہی ہے کہ ایف۔ 35 کی فراہمی کا تنازعہ اب حل ہونے والا ہے۔ جس سے نیٹو کے فوجی اتحاد کو تقویت ملے گی۔
پروگرام سے ہٹائے جانے کے باوجود ترکیہ نےایک سو ایف 35 اے کی خریداری کے لیے تقریباً 1.4 ارب امریکی ڈالر ادا کئے ہوئے ہیں۔ اور یہ رقم اس وقت بھی امریکہ کے پاس ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ترکیہ ایف۔ 35 طیاروں کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور ساتھ ہی تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا تھا کہ صدر اردوان "امریکہ کے لیے کچھ کریں گے”۔
اب اسکی تصدیق ابوظہبی میں منعقدہ حالیہ پریس کانفرنس میں ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے بھی کر دی ہے کہ انقرہ اپنے روسی ساختہ ایس۔ 400 فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور انہیں یقین ہے کہ معاملہ اگلے چار سے چھ ماہ میں حل ہو جائے گا۔












