
از : سہیل شہریار
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس )کا سات سال کے بعد ہونے والے ریاستی دورے پر استقبال کریں گے۔اس اہم دورے کا آغاز صبح کے وقت ایک خو ش گواراستقبالیہ تقریب کے ساتھ ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے صبح کی خوش آئند تقریب کے بعد شام میں باضابطہ عشائیہ بھی سعودی ولی عہد کے وائٹ ہاؤس کے دورے میں شامل ہے۔ جبکہ اوول آفس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات اور پھروفود کے ہمراہ باضابطہ بات چیت بھی مصروفیات کا حصہ ہیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ روایتی دورے اور اجلاس سے کہیں زیادہ ہے۔درحقیقت ہم سعودی عرب ، ولی عہد شہزادےکواعزاز دے رہے ہیں۔
اگرچہ اس دورے کو سرکاری دورے کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سعودی عرب کے فرماں روامحمد بن سلمان کے 89 سالہ والد شاہ سلمان ہیں۔ تاہم ایم بی ایس بطور وزیر اعظم اور سربراہ حکومت کئی برسوں سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اور اندرون و بیرون ملک ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
منگل کے روز ہونے والاایم بی ایس کا وائٹ ہاؤس کا دورہ سات سال سے زائد عرصے کے بعد انکا پہلا دورہ ہوگا۔ جس سے صدر ٹرمپ نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور اسکے لئےپرنس محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے لئے کام کیا ہے ۔ امریکی صدرچاہتے ہیں کہ سعودی عرب بھی ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرے۔ جو سعودی پالیسی کے مطابق فلسطین کے دوریاستی حل کے بغیر تقریباً ناممکن ہے۔اس کے باوجود صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "مجھے امید ہے کہ سعودی عرب جلد ہی ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔”
توقع کی جارہی ہے کہ منگل کے دورے کے ساتھ ہی امریکہ ۔ سعودی عرب تعلقات میں ٹوٹ پھوٹ کی تمام علامات ختم ہو جائیں گی ۔اور دونوں ملک ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سفارتی اور دفاعی شعبوں میں نئی منزلوں کی جانب رواں ہونگے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کے اس اہم دورے میں جہاں سعودی عرب کو جدید ایف ۔ 35طیاروں کی فروخت سمیت جدید میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی فروخت کے معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ جبکہ سعودی عرب بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک بڑی سرمایہ کاری کانفرنس بھی منعقد کرے گا۔
منگل کے اجلاسوں سے قبل تیاری کے لئے سعودی وزیر دفاع اور ولی عہد کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان ایک ہفتہ پہلے سے واشنگٹن میں موجود ہیں۔ جہاں امریکی اور سعودی عہدیدار دفاع اور سیکیورٹی کے تعاون سے متعلق معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لئے کام کر رہے تھے ۔ وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اس دوران اپنے امریکی ہم منصب ہیگ سیتھ اور وزیر خارجہ روبیوسے اہم ملاقاتیں بھی کیں۔
امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اگرچہ سعودی ولی عہداور ٹرمپ کے منگل کو دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔تاہم یہ دونوں ملکوں کے مابین ابتدائی مراحل میں زیر بحث معاہدے سے کم ہے۔ کیونکہ ایک باضابطہ معاہدے کے لئے کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہوگی۔ پھر سعودی عرب نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک ہی شرط ہے اور وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے ایک "قابل اعتبار” اور "ناقابل واپسی” راستہ ہے۔ امریکی عہدیدار منگل کے اجلاس کے دوران اس مسئلے پر بھی پیشرفت کے بارے میں پر امید ہیں۔












