کابل ( پاک ترک نیوز) یونیسف اور یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 53 فیصد افغان بچے تعلیم سے محروم، 26 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل نہیں کرسکیں۔افغانستان میں تعلیمی بحران شدت اختیار کرگیا، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یونیسف اور یونیسکو کی تازہ رپورٹ میں تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ 15 لاکھ بچوں میں سے تقریباً 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو مجموعی تعداد کا 53 فیصد بنتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں کے باعث اب تک 26 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں۔تعلیمی پابندیوں کے اثرات صرف لڑکیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ لڑکوں کے اسکولوں میں داخلوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، تربیت یافتہ اساتذہ اور معیاری تعلیمی وسائل کی شدید قلت ہے، جس سے تعلیمی نظام کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 11 افراد جاں بحق، 33 زخمی
دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کررہی ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان میں لاکھوں بچوں اور بچیوں کے تعلیمی مستقبل پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔












