اوٹاوہ ( پاک ترک نیوز) کینیڈا نے امیگریشن اور سرحدی سیکیورٹی قوانین میں بڑی تبدیلیاں منظور کرلی ہیں، جس کے تحت ویزا درخواستوں، مستقل رہائش اور سیاسی پناہ حاصل کرنے کے طریقہ کار کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔پاکستان کے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق بل سی 12 کے تحت کینیڈین حکومت کو عوامی مفاد کی بنیاد پر ورک پرمٹ، اسٹڈی پرمٹ، عارضی رہائشی ویزے، الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن اور مستقل رہائش کی درخواستوں کی وصولی یا کارروائی عارضی طور پر روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
نئے قانون کے تحت قومی سلامتی، دھوکا دہی یا امیگریشن نظام کی ساکھ سے متعلق خدشات کی بنیاد پر پہلے سے جاری کیے گئے ویزے اور دیگر امیگریشن دستاویزات بھی معطل یا منسوخ کی جاسکیں گی۔قوانین میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد کے لیے بھی سخت شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ 24 جون 2020 کے بعد کینیڈا پہنچنے والے افراد کو آمد کے ایک سال کے اندر پناہ کی درخواست دینا ہوگی، بصورت دیگر ان کی درخواست امیگریشن اینڈ ریفیوجی بورڈ کو بھیجے جانے کے لیے نااہل قرار دی جاسکتی ہے۔اسی طرح امریکا سے غیر رسمی زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے کینیڈا داخل ہونے والے افراد کو 14 دن کے اندر سیاسی پناہ کی درخواست دینا ہوگی۔ مقررہ مدت گزرنے پر ان کا کیس بھی متعلقہ بورڈ کو بھیجنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔نئے ضوابط کے مطابق اگر کوئی درخواست گزار اپنے آبائی ملک واپس چلا جائے، امیگریشن انٹرویو میں شریک نہ ہو یا مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرے تو اس کی سیاسی پناہ کی درخواست واپس لی گئی یا ترک شدہ تصور کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے، اعظم نذیر تارڑ
قانون کے تحت کینیڈا کے سرکاری محکموں اور اداروں کو درخواست گزاروں کی ذاتی معلومات، پاسپورٹ کی تفصیلات اور امیگریشن حیثیت ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کی بھی اجازت ہوگی، تاکہ ممکنہ دھوکا دہی اور غلط بیانی کی نشاندہی کی جاسکے۔ان تبدیلیوں کا مقصد کینیڈا کے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے نظام کی نگرانی مزید سخت کرنا اور ملک میں داخلے یا تحفظ کے خواہش مند افراد کے لیے شرائط میں اضافہ کرنا ہے۔












