اوٹاوہ ( پاک ترک نیوز) پاکستانیوں کے لیے بھی اہم خبر، کینیڈا میں مستقل رہائش کے مواقع مختلف امیگریشن پروگراموں کے تحت دستیاب ہوں گے، تاہم منظوری اہلیت کی شرائط سے مشروط ہوگی۔کینیڈا نے 2026 سے 2028 کے دوران مجموعی طور پر 11 لاکھ 40 ہزار غیر ملکیوں کو مستقل رہائش دینے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر سال 3 لاکھ 80 ہزار افراد کو مستقل رہائش دی جائے گی۔یہ اہداف نومبر 2025 میں جاری کیے گئے کینیڈا کے امیگریشن منصوبے کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں مستقل رہائش کے مواقع میں کسی نئے اضافے کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔
2026 کے لیے مقررہ ہدف کے مطابق معاشی بنیادوں پر امیگریشن کے تحت 2 لاکھ 39 ہزار 800 افراد کو مستقل رہائش دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ خاندانی کفالت کے پروگراموں کے لیے 84 ہزار، جبکہ پناہ گزینوں اور تحفظ کے مستحق افراد کے لیے 49 ہزار 300 جگہیں مختص ہیں۔ انسانی ہمدردی اور دیگر زمروں کے لیے مزید 6 ہزار 900 جگہیں رکھی گئی ہیں۔منصوبے کے مطابق 2027 اور 2028 میں معاشی بنیادوں پر مستقل رہائش حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھا کر سالانہ 2 لاکھ 44 ہزار 700 کی جائے گی، جبکہ خاندانی کفالت کے تحت سالانہ ہدف کم کرکے 81 ہزار کر دیا جائے گا۔ تاہم مستقل رہائش کا مجموعی سالانہ ہدف 3 لاکھ 80 ہزار ہی رہے گا۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے مستقبل میں امیگریشن میں محدود اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے، تاہم مستقل رہائش کے نئے اہداف کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب کینیڈا عارضی رہائش کے لیے آنے والے نئے افراد کی تعداد بھی کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 2026 میں 3 لاکھ 85 ہزار، جبکہ 2027 اور 2028 میں سالانہ 3 لاکھ 70 ہزار نئے عارضی رہائشیوں کا ہدف رکھا گیا ہے۔پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ یہ تعداد پورے کینیڈا کے امیگریشن اہداف کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے الگ سے مخصوص نشستیں مقرر نہیں کی گئیں، اور مستقل رہائش کی منظوری متعلقہ پروگرام کی شرائط، اہلیت اور درخواست کی جانچ پر منحصر ہوگی۔
کینیڈا کا اگلا امیگریشن منصوبہ، جو 2027 سے 2029 تک کے عرصے کا احاطہ کرے گا، یکم نومبر 2026 تک پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اسی منصوبے سے واضح ہوگا کہ مستقل رہائش کے اہداف میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا نہیں۔












