واشنگٹن(پاک ترک نیوز)واشنگٹن میں عالمی قانون فورم 2026 کا اجلاس ورلڈ بینک ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا، جس میں 40 سے زائد ممالک کے وزراء اور اعلیٰ قانونی حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
اعظم نذیر تارڑ نے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قانونی اصلاحات سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد معاہدوں پر تیز، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی عمل درآمد سے جڑا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نظامِ انصاف میں اصلاحات صرف قانونی نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کا بھی اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آسان کاروبار قانون، ون ونڈو بزنس پورٹل اور سرمایہ کاروں کے لیے ون اسٹاپ شاپ جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2022 غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے اہم قانونی فریم ورک ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیز ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے متعدد فوجداری سزاؤں کی جگہ مالی جرمانے متعارف کرانے اور آن لائن فائلنگ کا نظام بہتر بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بھتہ مافیا کے خلاف آپریشن، صمد کاٹھیاواڑی گروپ کا اہم کارندہ ہلاک
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ تجارتی تنازعات کے فوری حل کے لیے خصوصی تجارتی عدالتوں اور ثالثی کے نظام کے قیام پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط کر رکھے ہیں اور اس کی توثیق کے لیے قانون سازی کی تیاری جاری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور اپنی قانونی اصلاحات کا تجربہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔












