یروشلم (پاک ترک نیوز )اسرائیل میں انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے سے کئی گھنٹے قبل ہی یہ واضح ہونے لگا تھا کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کو حکومت سازی کے لیے درکار حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن کے پاس حکومت بنانے کا موقع موجود ہے۔ تاہم، اپوزیشن کی بیشتر یہودی جماعتوں کی جانب سے فلسطینی قیادت والی عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیے جانے کے باعث سیاسی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو پر فلسطینی شہریوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے اور انہیں اسرائیل کے اندر ایک مخالف قوت کے طور پر پیش کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ اس سیاسی ماحول میں اپوزیشن کے لیے ایک وسیع تر اتحاد تشکیل دینا اہم معاملہ بن گیا ہے، لیکن عرب جماعتوں کو حکومت سازی میں شامل کرنے پر اختلافات اس عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات ختم کرکے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہوئیں تو نیتن یاہو کو اقتدار میں رہنے کا مزید موقع مل سکتا ہے۔ اس صورت میں وہ نگران وزیراعظم کے طور پر طویل عرصے تک ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں، جبکہ ملک میں دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں بھی حکومت سازی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال زیر بحث رہی۔ اخبار اسرائیل ہیوم نے اپنی رپورٹ میں واضح حکومت کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی، جبکہ چینل 12 کے ایک مضمون میں اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے موجود امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔
دوسری جانب، وسط بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان نے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو شکست دینے کے لیے دستیاب سیاسی امکانات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
یائر گولان نے اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو ہار چکے ہیں اور انہیں انتخابی اعداد و شمار کا علم ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے عرب شہریوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہودی اور عرب ووٹروں کے درمیان تقسیم کو مزید قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، اپوزیشن کے پاس اکثریت موجود ہے اور اسے عرب شہریوں کے ساتھ مل کر ایسی حکومت تشکیل دینے کا موقع استعمال کرنا چاہیے جو ملک میں تبدیلی لا سکے۔
اسرائیل کی آبادی میں عرب شہریوں کا حصہ تقریباً 20 فیصد بتایا جاتا ہے۔ انتخابی دن ووٹنگ ختم ہونے کے وقت کیے گئے ایک سروے کے حوالے سے سیاسی نفسیات کے اسرائیلی ماہرین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ووٹروں کی واضح اکثریت نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے فلسطینی قیادت والی جماعت رام کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی حمایت کرتی ہے۔
تاہم، اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا۔ وہ ایک طرف نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، لیکن دوسری جانب فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے ساتھ سیاسی تعاون نہ کرنے کے اپنے سابقہ وعدوں اور مؤقف کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سابق جنرل گاڈی آئزن کوٹ، جو اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں، نے فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو براہ راست مسترد نہیں کیا، تاہم انہوں نے ایسی شرائط پیش کیں جن کے باعث ان جماعتوں کی اتحادی حکومت میں شمولیت سیاسی طور پر انتہائی مشکل دکھائی دینے لگی۔
اس کے برعکس، فلسطینی قیادت والی جماعتوں نے حکومت سازی کے حوالے سے اپنے مؤقف کا واضح اظہار کیا ہے۔ جوائنٹ لسٹ نامی سیاسی اتحاد کے رہنما یوسف جبارین نے کہا کہ ان کی جماعت نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل میں سیاسی تبدیلی یہودی اور عرب جماعتوں کی شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
اسرائیل میں حکومت سازی کا معاملہ اب اس سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنے اختلافات ختم کرکے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون پر متفق ہو سکیں گی، یا باہمی سیاسی شرائط اور تحفظات نئی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔











