اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی۔عدالت نے دونوں وکلا کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی، جبکہ ان پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر 7 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ دونوں وکلا کی جانب سے صحتِ جرم سے انکار کے بعد مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔مقدمے میں عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا، جبکہ اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے گواہان پر جرح کی۔ استغاثہ کی جانب سے مجموعی طور پر سات گواہ عدالت میں پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ دونوں اس مقدمے میں ضمانت پر تھے۔












