تل ابیب ( پاک ترک نیوز) اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد سیاسی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو شکست ہو چکی ہے، تاہم ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی بڑے سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔
Cite یائر لیپڈ نے انتخابی نتائج کے ابتدائی اندازوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی ہے اور اب نئی حکومت بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں اور اپوزیشن اتحاد اکثریت میں ہے۔
دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق اسرائیلی پارلیمان کی 120 نشستوں میں سے نیتن یاہو کے حامی اتحاد اور ان کے مخالف سیاسی اتحاد، دونوں 61 نشستوں کی مطلوبہ اکثریت سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف مرکزی ٹی وی چینلز کے اندازوں میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں جبکہ ان کے مخالف صہیونی جماعتوں کے اتحاد کو 52 سے 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ عرب جماعتوں کو 17 سے 18 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے
سابق فوجی سربراہ اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے بھی انتخابی اندازوں کو نیتن یاہو کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔ وہ نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ نئی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم اپوزیشن کو اکثریت کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔












