کیا شیشہ پینا صحت کیلئے سگریٹ سے کم نقصان دہ ہے ؟ اگر آپ کا یہ خیال تو یہ یقیناً آپ غلط ہیں۔
محکمہ صحت کے ماہرین کے مطابق شیشہ پینے سے کاربن مونو آسکائیڈ،ٹار اور دیگر مضر ماد ے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں جو پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ آپ کو صحت کو شدید متاثر کرسکتے ہیں ۔
اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شیشے کا دھواں پانی سے گزرنے کے باوجود محفوظ نہیں ہو جاتا، جبکہ اس کے طویل دورانیے تک استعمال سے نقصان دہ دھوئیں کی بڑی مقدار جسم میں داخل ہو سکتی ہے۔
اب ایک گھنٹے کا شیشہ آخر کتنے سگریٹوں کے برابر نقصان پہنچا سکتا ہے؟
ڈاکٹرز کے مطابق، ایک گھنٹے تک شیشہ پینا تقریباً 40 سگریٹوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشے کا ایک عام سیشن دو سے چار گھنٹے تک جاری رہتا ہے، اور ان کے اندازے کے مطابق اس دوران دھوئیں کی مقدار 200 سگریٹوں تک کے برابر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آج منڈی بہاؤالدین میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گی
ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ روزانہ کھانسی، سانس میں سیٹی جیسی آواز اور سانس پھولنے کو معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ علامات پھیپھڑوں کی سنگین بیماری، خصوصاً سی او پی ڈی (COPD) کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں وقت کے ساتھ سانس لینے میں دشواری بڑھ سکتی ہے۔
آپ کیلئے یہ بھی بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیشے کا خوشبودار دھوار ضروری نہیں آپ کیلئے مضر صحت نہ ہو۔ مسلسل کھانسی یا سانس لینے میں دشواری کی صورت میں آپ کو چاہئے کہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔







