لندن(پاک ترک نیوز)برطانیہ نے غیرملکی طلبہ سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت انگلینڈ کی یونیورسٹیوں کو اگست 2028 سے مقررہ حد سے زیادہ ہر بین الاقوامی طالب علم پر سالانہ 925 پاؤنڈ، یعنی تقریباً 1200 ڈالر لیوی ادا کرنا ہوگی۔
اس اقدام سے پاکستان، بھارت، چین، نائیجیریا اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کو داخلے دینے والی یونیورسٹیاں متاثر ہوں گی۔ تاہم یہ رقم طلبہ سے براہِ راست وصول نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی ادائیگی متعلقہ تعلیمی اداروں کو کرنا ہوگی۔
مجوزہ پالیسی کے مطابق ہر یونیورسٹی کے پہلے 220 بین الاقوامی طلبہ اس لیوی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس حد سے زیادہ طلبہ پر سالانہ فیس لاگو ہوگی، جس کا اطلاق نئے اور پہلے سے زیرِ تعلیم غیرملکی طلبہ دونوں پر ہوگا۔
مثال کے طور پر، اگر کسی یونیورسٹی میں ایک ہزار بین الاقوامی طلبہ زیرِ تعلیم ہوں تو 220 طلبہ کی چھوٹ کے بعد باقی 780 طلبہ کے حساب سے سالانہ 7 لاکھ 21 ہزار 500 پاؤنڈ لیوی ادا کرنا ہوگی۔
برطانوی حکومت کے تخمینے کے مطابق اس اقدام سے پہلے مالی سال 2028-29 میں 445 ملین پاؤنڈ، یعنی تقریباً 594 ملین ڈالر آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ رقم بعد کے برسوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس آمدن سے انگلینڈ کے اعلیٰ تعلیم اور مہارتوں کے نظام کی معاونت کی جائے گی۔
برطانوی وزیرِ تعلیم جوش میک ایلسٹر نے 19 اکتوبر 2026 کو پارلیمان میں پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے پر مشاورت اور اثرات کا جائزہ پہلے ہی مکمل کر چکی ہے، جبکہ تازہ تجزیہ بھی جلد شائع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا سنگاپور میں زیرِ زمین خام تیل ذخیرہ کرنے کا معاہدہ
اگرچہ لیوی براہِ راست طلبہ پر عائد نہیں ہوگی، تاہم خدشہ ہے کہ یونیورسٹیاں اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے بین الاقوامی طلبہ کی ٹیوشن فیس میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے پاکستانی طلبہ کے لیے برطانیہ میں تعلیم مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
برطانوی محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کو ختم ہونے والے سال میں پاکستانی بالغ طلبہ کو تقریباً 19 ہزار 600 اسٹڈی ویزے جاری کیے گئے۔












