اسلام آباد(پا ک ترک نیوز)لکی گروپ اور قطر انرجی پر مشتمل کنسورشیم انرجی گیس نے پاکستان کی توانائی پالیسی میں بنیادی تبدیلیوں اور طویل عرصے سے حل طلب معاملات کے باعث پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل قائم کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق انرجی گیس نے وزیراعظم شہباز شریف سے منصوبے کے لیے جمع کرائی گئی 20 لاکھ ڈالر کی ابتدائی رعایتی فیس واپس کرنے کی درخواست کی ہے۔ کنسورشیم کا مؤقف ہے کہ منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے کی وجوہات حکومتی پالیسی میں تبدیلیاں اور ایسے معاملات ہیں جو اس کے اختیار سے باہر تھے۔
دوسری جانب پورٹ قاسم اتھارٹی نے انرجی گیس کو خبردار کیا ہے کہ اگر 30 نومبر 2026 تک حتمی لیٹر آف انٹینٹ کی غیر مشروط منظوری اور منصوبے کی تازہ صورتحال فراہم نہ کی گئی تو لیٹر آف انٹینٹ منسوخ کرنے کے ساتھ 20 لاکھ ڈالر کی ابتدائی رعایتی فیس بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔
انرجی گیس کے چیئرمین محمد علی ٹبہ نے وزیراعظم کو خط میں مؤقف اختیار کیا کہ کنسورشیم نے پاکستان کی اس وقت کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مالی معاونت سے منصوبہ شروع کیا تھا، تاہم اب قومی توانائی کی ضروریات اور پالیسی کا ماحول نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق حکومتی اداروں کے ساتھ پالیسی اور مالیاتی معاملات طویل عرصے سے حل طلب ہیں، جس کے باعث منصوبے کی معاشی افادیت اور سرمایہ کاری کا فیصلہ متاثر ہوا۔
انرجی گیس نے پاکستان کی انٹیگریٹڈ انرجی اسٹڈی کی 28 مارچ 2025 کی حتمی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ پانچ برس میں نئے ایل این جی ٹرمینلز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کنسورشیم کے مطابق اس نتیجے نے منصوبے کی ضرورت اور معاشی جواز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں تیسرے طوفان کی آمد، نئے موسمی انتباہات جاری، ہزاروں گھر بجلی سے محروم
رپورٹ کے مطابق مئی 2020 میں منصوبے کے لیے ابتدائی لیٹر آف انٹینٹ جاری ہونے کے وقت ایل این جی پالیسی 2011 کے تحت نئے ٹرمینلز کو تجارتی آپریشن شروع ہونے کے بعد پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ حاصل تھی، تاہم جون 2021 میں نئے ٹرمینلز کے لیے یہ سہولت ختم کر دی گئی، جبکہ پہلے سے مستفید ہونے والے ٹرمینلز کو چھوٹ جاری رہی۔ رپورٹ میں اس تبدیلی کو عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط سے منسوب کیا گیا ہے۔






