لاہور( پاک ترک نیوز) ایک کلو ایل پی جی 600 روپے تک،جی ہاں سہی سنا آپ نے آخر یہ کیسا کھیل ہے؟سرکاری نرخ الگ! بازار کی قیمت الگ،حکومت کے نرخ کون مان رہا ہے؟ اور عوام کی سننے والا کون ہے؟ایل پی جی مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ تباہ ہو گیا ۔غریب جائے تو کہاں جائے؟صبح کا ناشتہ! دوپہر کا کھانا، رات کی روٹی۔ہر چیز کے لیے چولہا جلانا ضروری ہے۔ لیکن چولہا جلانے والی گیس ہی مہنگی ہو جائے تو گھر کیسے چلے؟
اوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کا سرکاری نرخ 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کیا۔ لیکن بعض علاقوں میں 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔یعنی سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت آخر یہ فرق کیوں؟کون جواب دے گا؟کیا گیس کی سپلائی کم ہے؟ کیا درآمد میں رکاوٹ ہے؟ کیا سردیوں سے پہلے طلب بڑھ رہی ہے؟
یا کہیں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری بھی ہو رہی ہے؟سوال بہت ہیں! جواب کون دے گا؟
بات آ گئی ہے پنجاب کی پیرا فورس پر ،کیا ایل پی جی کی دکانوں کی چیکنگ ہو رہی ہے؟ کیا سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے؟اگر کارروائی ہو رہی ہے تو عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟ایل پی جی ایسوسی ایشن کا مؤقف بھی اہم ہے۔ کہتے ہیں ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونا ایل پی جی کی قلت کی بڑی وجہ ہے،سردیوں میں اس کا استعمال بڑھنے سے بھی قلت پیدا ہو جاتی ہے جب سپلائی پہلے ہی متاثر ہو تو قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے دمام ایئر پورٹ پر حملے میں اموات کی تعداد 2ہو گئی
ایک اور عوام کےلیے بری خبر،حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے پر غور کیا جارہا ہے جس کے سبب سلنڈر 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہےایک طرف مہنگائی کا بوجھ! دوسری طرف روزمرہ کے اخراجات۔عوام کے لیے اب گھر میں کھانا پکانا بھی مہنگا ہو چکا ہے ،
عوام کا حکومت سے سوال ہے،سرکاری نرخ پر ایل پی جی کہاں ملے گی؟مہنگی گیس بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟اور عوام کو ریلیف آخر کب ملے گا؟سرکاری نرخ کاغذوں پر نہیں! بازار میں بھی نظر آنے چاہییں ۔کیونکہ عوام کو وعدے نہیں، ریلیف چاہیے۔









