اسلام آباد(پاک ترک نیوز)سپریم کورٹ نے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق فیڈرل سروس ٹریبونل کا 19 ستمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس عائشہ ملک نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ سروس رولز 1990 کا اطلاق صرف ابتدائی پروبیشنری مرحلے پر ہوگا، اور پروبیشن کی مدت مکمل کر کے باقاعدہ ترقی پانے والے سول سرونٹس کی سنیارٹی متاثر نہیں ہوگی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ دہائیوں پرانی محکمانہ روایات اور سی ایس ایس امتحان کی میرٹ پر مبنی سنیارٹی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ریلوے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پرانی سنیارٹی لسٹوں میں ردوبدل اور ریٹرو اسپیکٹو نفاذ غیر قانونی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق محکمہ دہائیوں سے افسران کی سنیارٹی سی ایس ایس امتحان کے میرٹ کی بنیاد پر طے کرتا چلا آ رہا تھا۔ اس سے قبل ریلوے نے 27 اگست 2014 کو نظرثانی شدہ سنیارٹی لسٹ جاری کی جسے سروس ٹریبونل اور سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان ،عظمیٰ خان ،نورین نیازی کو رہا نہ کرنے کیخلاف درخواست پر آج سماعت
بعد ازاں ریلوے محکمے نے 29 جون 2022 اور 20 مارچ 2023 کو سی ایس ایس امتحان کے میرٹ پر مبنی پروویژنل سنیارٹی لسٹیں جاری کیں، جن کے خلاف افسران نے فیڈرل سروس ٹریبونل میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ ٹریبونل نے 19 ستمبر 2025 کے فیصلے میں ریلوے کی لسٹیں کالعدم کر کے 1990 کے رولز کے تحت نئی لسٹیں بنانے کا حکم دیا تھا جسے اب اعلٰی ترین عدالت نے منسوخ کر دیا ہے۔











