اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم کے وزرائے کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ خطے میں امن، لچک، یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اجتماعی قوت کو بروئے کار لانا ہوگا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کا عالمی تجارت میں حصہ صرف دو اعشاریہ دو فیصد ہے، جبکہ رکن ممالک کے درمیان تجارت مجموعی علاقائی تجارت کا تقریباً آٹھ فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کو زیادہ مربوط، متحرک اور مسابقتی بنانا اقتصادی تعاون تنظیم کا مشترکہ ہدف ہے۔ علاقائی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے محض مکالمے تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی اقتصادی انضمام اور باہمی تجارت کے فروغ کو ترجیح دے گا۔ وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے اہم راہداری منصوبوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کی آبی سلامتی، زراعت اور روزگار کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے اور پائیدار توانائی کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج کا آپشن آئین میں ہمیشہ سے موجود ہے، خواجہ آصف
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پورے خطے کے لیے تجارتی اور اقتصادی دروازے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم کے تجارتی معاہدے کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ تنظیم کے آزاد تجارتی علاقے کو فعال اور ڈیجیٹل بنانے کی جانب پیش رفت ضروری ہے۔ان کے مطابق آزاد تجارتی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ کاروبار کے فروغ اور جدت کے لیے معاون ثابت ہوگا۔












