اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) دستاویزات کے مطابق ملک میں سائبر فراڈ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، گزشتہ تین سال کے دوران 2 لاکھ 27 ہزار 757 افراد سائبر فراڈ کا نشانہ بنے، جبکہ متاثرین سے مجموعی طور پر 8 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کا فراڈ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق 2024 میں 83 ہزار 80، 2025 میں 76 ہزار 646 جبکہ 2026 کے دوران 68 ہزار 31 افراد نے سائبر فراڈ کی شکایات درج کرائیں۔سائبر فراڈ کا شکار ہونے والوں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سینیٹرز، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے 4 لاکھ 90 ہزار روپے جبکہ فلک ناز چترالی سے 4 لاکھ 85 ہزار روپے کا فراڈ کیا گیا۔سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے 4 لاکھ 3 ہزار روپے جبکہ سینیٹر نیاز احمد سے 30 ہزار روپے ہتھیائے گئے۔اسی طرح رکن صوبائی اسمبلی شہلا بانو سے 3 لاکھ 70 ہزار 800 روپے جبکہ رکن صوبائی اسمبلی آصف خان سے 9 لاکھ 70 ہزار روپے کا سائبر فراڈ کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق 6 پارلیمنٹرینز سے مجموعی طور پر 27 لاکھ 49 ہزار 800 روپے کا فراڈ کیا گیا۔این سی سی آئی اے کی کارروائی کے نتیجے میں فلک ناز چترالی، سینیٹر بلال احمد مندوخیل اور سینیٹر نیاز احمد کے پیسے واپس کرائے گئے۔دستاویزات کے مطابق سینیٹر ناصر بٹ اور وہاڑی سے رکن صوبائی اسمبلی ساجد مہدی بھی سائبر فراڈ کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں۔












