ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔۔۔اب چھوٹے اور سستے ڈرونز کے جھنڈ بھی بڑے سے بڑے دفاعی نظام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔۔۔ایسے میں پاکستان ایئر فورس نے بھی ڈرونز کے خلاف دفاع مضبوط کرنے کے لیے تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظام میدان میں اتار دیا ہے۔۔۔چین کے میزائل اور ترکیہ کی جدید خودکار توپیں۔۔۔ آخر یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔۔۔
فضا میں منڈلاتا ایک چھوٹا سا ڈرون۔۔۔لیکن خطرہ کتنا بڑا۔۔۔ اس کا اندازہ حالیہ جنگوں نے دنیا کی افواج کو بخوبی کرا دیا ہے۔اب پاکستان نے بھی ایسے فضائی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کو نئی شکل دے دی ہے۔۔۔ایک نہیں۔۔۔ دو نہیں۔۔۔ بلکہ کئی تہوں پر مشتمل دفاعی حصار!پاکستان ایئر فورس کی جاری کردہ ویڈیو میں تین اہم نظام نمایاں کیے گئے ہیں۔۔۔چین کا ایچ کیو-17 اے ای۔۔۔ترکیہ کا کورکُٹ 35 ملی میٹر۔۔۔اور ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون سسٹم!
سب سے باہر دفاعی تہہ سنبھالتا ہے چینی ساختہ ایچ کیو-17 اے ای۔۔۔جو تقریباً 15 کلومیٹر تک مختلف فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر کوئی ڈرون اس حصار کو توڑ دے۔۔۔تو اگلی دفاعی لائن سنبھالتی ہے ترک ساختہ کورکُٹ۔۔۔دو 35 ملی میٹر خودکار توپیں۔۔۔اور ایسا قابلِ پروگرام گولہ بارود جو فضا میں پھٹ کر ڈرون کے راستے میں تباہ کن ٹکڑوں کا بادل بنا دیتا ہے۔
اور اگر کوئی انتہائی چھوٹا ڈرون پھر بھی بچ نکلے۔۔۔تو آخری دفاعی حصار ہے ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون سسٹم۔ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل سینسرز اور خودکار فائر کنٹرول سے لیس یہ نظام قریب آنے والے چھوٹے ڈرونز کے خلاف ایئر برسٹ گولہ بارود استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جارح قوتوں کو مکمل پچھتاوے پر مجبور کرنے تک مزاحمت جاری رکھیں گے، ایرانی صدر
یعنی دشمن کا ڈرون جتنا قریب آئے گا۔۔۔اس کے لیے خطرہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا!ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ہر ڈرون کے خلاف مہنگا میزائل داغنے کے بجائے۔۔۔خطرے کے فاصلے اور نوعیت کے مطابق میزائل، توپ اور کاؤنٹر ڈرون نظام استعمال کرنا ہے۔
چین کا میزائل۔۔۔ترکیہ کی توپیں۔۔۔اور پاکستان کی اپنی دفاعی ضرورت۔۔۔تینوں مل کر بنا رہے ہیں ایک نیا کثیر سطحی اینٹی ڈرون حصار۔تاہم یہ مکمل فضائی دفاع کا متبادل نہیں۔۔۔بلکہ کم بلندی پر آنے والے ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کے خلاف دفاع کی ایک اضافی اور اہم تہہ ہے۔












