کیلیفورنیا(پاک ترک نیوز ) ناسا نے گہرے خلاء میں موجود خلائی مشنز سے رابطے کے اپنے عالمی نیٹ ورک ڈیپ اسپیس نیٹ ورک (DSN) میں ایک نیا بڑا ریڈیو اینٹینا شامل کر دیا ہے، جس سے دور دراز خلائی جہازوں سے رابطے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔کیلیفورنیا کے صحرائی علاقے میں قائم گولڈ اسٹون کمپلیکس میں نصب نئے اینٹینا کا قطر 114 فٹ یعنی تقریباً 34 میٹر ہے۔ یہ اینٹینا 3 اگست کو فعال ہوا اور اس نے ابتدائی طور پر ناسا کی چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کو ٹریک کیا۔
ڈیپ اسپیس نیٹ ورک ناسا کے ان اہم ترین نظاموں میں شامل ہے جو زمین سے انتہائی دور موجود خلائی جہازوں کو پیغامات بھیجنے اور ان سے سائنسی معلومات وصول کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وائجر 1، وائجر 2 اور نیو ہورائزنز سمیت نظامِ شمسی اور بین النجمی خلا کی تحقیق کرنے والے 40 سے زائد مشنز اس نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔تاہم خلائی مشنز میں مسلسل اضافے کے باعث ڈی ایس این پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر آرٹیمس 1 اور آرٹیمس 2 مشنز کے دوران چاند کے گرد سفر کرنے والے خلائی جہازوں کو ترجیح دینے سے دیگر مشنز کے لیے نیٹ ورک کی دستیابی میں نمایاں کمی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹار لنک کی آمد سے متحدہ عرب امارات سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کا علاقائی مرکز بننے کی راہ پر
ناسا کے ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کے مینیجر بریڈ آرنلڈ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ مزید اینٹینا نصب کیے جانے کے باوجود موجودہ طلب پوری کرنا مشکل ہے اور مستقبل میں بعض خلائی مشنز کو رابطے کے لیے کم وقت مل سکتا ہے۔ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کے تین بڑے کمپلیکس ہیں، جو کیلیفورنیا کے گولڈ اسٹون، اسپین کے قریب میڈرڈ اور آسٹریلیا کے کینبرا میں واقع ہیں۔ ہر کمپلیکس میں ایک بڑا 230 فٹ یعنی تقریباً 70 میٹر کا اینٹینا اور کئی چھوٹے اینٹینا شامل ہیں۔
نیا DSS-23 اینٹینا ڈی ایس این کے اپرچر اینہانسمنٹ پروجیکٹ کے تحت نصب کیے جانے والے چھ 34 میٹر اینٹینا میں سے پانچواں ہے۔ یہ منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا۔ناسا کے مطابق منصوبے کا آخری اینٹینا DSS-33 آسٹریلیا کے کینبرا کمپلیکس میں نصب کیا جائے گا، جس کے 2029 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔












