انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کے جنوبی صوبے مرسین کے ضلع اردملی میں تحفظ اور دستاویزی منصوبے کے دوران تقریباً 2 ہزار سال پرانی رومی شاہراہ کا ایک اہم حصہ دریافت کر لیا گیا ۔
ماہرین کے مطابق یہ تاریخی شاہراہ رومی سلطنت کے دور میں بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں کو انطالیہ اور انطاکیہ سے ملاتے ہوئے موجودہ شام تک جاتی تھی اور سلطنت کی اہم ترین تجارتی و عسکری گزرگاہوں میں شمار ہوتی تھی۔
دریافت ہونے والا حصہ کزقالیسی اور آیاش کے درمیان واقع ہے، جہاں ابتدائی مسیحی دور کے تین قدیم گرجا گھر بھی موجود ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ رومی دور کے اہم مذہبی اور تاریخی مراکز میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ مرسین یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخِ فن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شینر یلدرم کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جبکہ اس میں مقامی انتظامیہ، بلدیہ اور چیمبر آف کامرس نے بھی تعاون کیا۔
ڈاکٹر شینر یلدرم کے مطابق یہ شاہراہ رومی سلطنت کے مرکز کو اس کے مشرقی صوبوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہوں میں سے ایک تھی، جو انطالیہ سے شروع ہو کر بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ انطاکیہ اور پھر شام تک جاتی تھی۔ ان کے مطابق دریافت ہونے والا حصہ قدیم شہروں کوری کوس اور ایلائیوسا سباستے کو آپس میں ملاتا تھا اور تاریخی شاہراہ کے محفوظ ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ تقریباً دو کلومیٹر طویل اس قدیم راستے کی صفائی اور دستاویزی مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ اب اس کی بحالی کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ فنڈز کی فراہمی کے بعد شاہراہ کی مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا تاکہ اسے ثقافتی سیاحت کے ایک اہم راستے میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر اردوان کیخلاف ناکام بغاوت کو 10برس مکمل
ضلع اردملی کے گورنر آیدِن تتیک اوغلو نے کہا کہ یہ مقام بحیرۂ روم اور سرسبز پہاڑوں کے حسین مناظر کی وجہ سے پیدل سیر کے لیے نہایت دلکش ہے۔
میئر مصطفیٰ کارا نے کہا کہ بلدیہ اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر اس تاریخی مقام کو مکمل طور پر سیاحوں کے لیے کھولنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔ مقامی چیمبر آف کامرس کے صدر مصطفیٰ کاراگوز کے مطابق ضلع اردملی میں 200 سے زائد آثارِ قدیمہ کے مقامات موجود ہیں، جن کا تحفظ مقامی انتظامیہ، سیاحتی شعبے اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔








