بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے 10 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر کیے جانے والے پنگلو کینال منصوبے کے آبی آزمائشی مرحلے کا آغاز کر دیا، جسے ملک کے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
134.2 کلومیٹر طویل یہ نہر جنوبی چین کے خودمختار علاقے گوانگ شی میں واقع ہے، اس پر پانی کے بہاؤ کے ٹیسٹ شروع کر دیے گئے ، جبکہ باقاعدہ آبی آمدورفت کا آغاز رواں سال ستمبر میں متوقع ہے۔
چینی حکام کے مطابق پنگلو کینال دریائے شی جیانگ کے نظام کو خلیج بیبو سے جوڑے گی، جس کے نتیجے میں جنوب مغربی چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان تجارتی رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔
اس منصوبے کی تکمیل کے بعد گوانگ شی، یونان اور گوئیژو جیسے اندرونی صوبوں سے سامان سمندر تک پہنچانے کے لیے مختصر اور تیز ترین راستہ میسر آئے گا، جبکہ مشرقی شہر گوانگ ژو کے طویل راستے پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی نہر نہ صرف سفری فاصلے اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی لائے گی بلکہ خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی۔
پنگلو کینال کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیائی منڈیوں تک رسائی آسان بنانا اور علاقائی اقتصادی روابط کو فروغ دینا ہے۔
بعض ماہرین نے منصوبے کی بھاری لاگت اور مقامی حکومتوں پر ممکنہ مالی دباؤ کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔
چینی حکام کا مؤقف ہے کہ طویل المدتی معاشی فوائد کے پیش نظر یہ منصوبہ ملکی ترقی اور علاقائی تجارت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔












