لاہور( پاک ترک نیوز) کبھی دنیا کے ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں نظر آنے والا موبائل فون ۔۔۔ وہ برانڈ جس کی رنگ ٹون پوری دنیا کی پہچان بن گئی تھی اور وہ کمپنی جس کے فون کی بیٹری کئی کئی دن چلتی تھی آج تاریخ کے ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔
جی ہاں نوکیا، ایک ایسا نام جس نے پوری ایک نسل کو موبائل فون سے متعارف کرایا، اب اسمارٹ فونز کی دنیا سے تقریباً غائب ہو چکا ہے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب دنیا بھر میں فروخت ہونے والے ہر دس موبائل فونز میں سے چار نوکیا کے ہوتے تھے۔
Nokia 1100 نے 2003 میں مارکیٹ میں آکر 25 کروڑ سے زائد یونٹس فروخت کیے، جو آج تک کسی بھی آئی فون یا گلیکسی ماڈل کے لیے ایک خواب ہے۔
جبکہ Nokia 3310، جسے دنیا اینٹ جیسا مضبوط فون کہتی تھی، 12 کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد کے ہاتھوں تک پہنچا۔1998 میں فن لینڈ کی کمپنی نوکیا دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون ساز کمپنی بن چکی تھی۔سالانہ 20 ارب ڈالر سے زائد آمدنی اور عالمی مارکیٹ کا 40 فیصد حصہ نوکیا کے قبضے میں تھا۔
مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نوکیا کا آغاز موبائل فونز سے نہیں بلکہ کاغذ، ربڑ، جوتے اور بجلی کی تاریں بنانے سے ہوا تھا۔1865 میں ایک دریا کے کنارے قائم ہونے والی یہ کمپنی وقت کے ساتھ ساتھ نئی صنعتوں میں داخل ہوتی گئی۔پھر 1979 میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں قدم رکھا اور 1992 میں دنیا کا پہلا جی ایس ایم موبائل فون، Nokia 1011 متعارف کرا دیا۔یہ وہ لمحہ تھا جس نے موبائل کمیونیکیشن کی تاریخ بدل دی۔
اس کے بعد کامیابیوں کا ایسا سفر شروع ہوا جس نے نوکیا کو دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔ مضبوط فون، سادہ استعمال، مشہور "سانپ والا گیم” اور کئی دن چلنے والی بیٹری نے کروڑوں صارفین کو اپنا دیوانہ بنا لیا۔لیکن پھر اسمارٹ فونز کا دور آیا۔ٹچ اسکرین، اینڈرائیڈ اور آئی فون کی آمد نے مارکیٹ کے اصول بدل دیے اور نوکیا نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ نوکیا نے اسمارٹ فونز کی تیاری تقریباً ختم کر دی ہے، برازیل سمیت کئی مارکیٹوں سے نکل چکا ہے . اب بنیادی فیچر فونز کے ذریعے خاص طور پر بھارت میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔کمپنی اب بھی ایسے شراکت دار کی تلاش میں ہے جو نوکیا کے نام کو ایک بار پھر جدید اسمارٹ فونز کی دنیا میں زندہ کر سکے۔
کبھی موبائل فون کی دنیا کا بے تاج بادشاہ، آج اپنے ماضی کی عظمت کی یادگار بن چکا ہے۔ نوکیا کا نام اب بھی کروڑوں لوگوں کی یادوں میں زندہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ لیجنڈری برانڈ دوبارہ عروج حاصل کر سکے گا یا پھر تاریخ کے صفحات میں ایک سنہری داستان بن کر رہ جائے گا؟





