
از: سہیل شہریار
ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی اصل مالیت کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہےجسکا مکمل اور درست جواب پچھلے 47سالوں میں معلوم نہیں ہو سکا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ ایران کے اثاثے مختلف شکلوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں منجمد ہیں۔
اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کی بطور ثالث مخلصانہ کاوشوں کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ بندی کے بعدمجوزہ امن معاہدے کی راہ میں ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی کا معاملہ اہم پیچیدگی بن کر سامنے آگیا ہے۔ اورایران کا سرکاری میڈیا اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے توسط سے متعدد بار اس امر کی تصدیق کر چکا ہے کہ جنگ بندی کے بعد منجمد اثاثوں کا معاملہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں امریکی سنجیدگی کے لیے بنیادی امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔
ایرانی حکومت اور میڈیا کی جانب سے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی قومی دولت کے اربوں ڈالر روکے ہوئے ہیں۔مگر آج تک کسی ایرانی عہدیدار نے ان اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔ جبکہ اقتصادی سیاسیات کے ماہرین کی جانب سے ایسے تجزیے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ منجمد ایرانی اثاثوں کی اصل مالیت کے بارے میں ایران میںبرسراقتدار افراد بھی آگاہ نہیں کیونکہ اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے ایسے بھی ہیں جنہیں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے انتہائی خفیہ رکھا تھا۔البتہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ان منجمد اثاثوں میں تیل کی آمدن، مرکزی بینک کے ذخائر اور تجارتی اثاثے شامل ہیں۔
تاریخی اعتبار سےایرانی اثاثوں کاسب سے بڑا انجماد 14 نومبر 1979 کو صدر جمی کارٹر کے ایگزیکٹیو آرڈر سے عمل میں آیا تھا۔ اور نتیجتاً امریکی بینکوں میں موجود تقریباً آٹھ سے گیارہ ارب ڈالر مالیت کے ایرانی سرکاری اثاثے منجمد کر دیے گئےتھے۔اور تمام امریکی بنکوں نے ایران سے لین دین ختم کر دیا تھا۔یہیں پر بس نہیںامریکی پابندیوں نے صنعتی اور توانائی کے شعبوںکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس سے شیل، جنرل الیکٹرک اور بوئنگ جیسی عالمی کمپنیوں نے ایران میں اپنے منصوبے ترک کر دیے۔ اورایران کا سرمایہ کئی ادھورےمنصوبوں میں پھنس گیا۔
تب پہلی بار1981 کے الجزائر معاہدوں کے تحت منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ ایران کو واپس کیا گیا۔ جس سے ایران کو تقریباً 3.6 ارب ڈالر ملے۔ جو اصل منجمد شدہ رقم کے ایک تہائی کے برابر تھے۔ جبکہ باقی رقم امریکی کمپنیوں اور شہریوں کی جانب سے دائر کردہ دعوؤں کی ادائیگی کے لیے روک لی گئی۔جس کے لئے دی ہیگ میں ایران۔ امریکہ کلیمز ٹربیونل قائم کیا گیا۔ جو آج بھی دونوں ممالک کے درمیان مالی اور تجارتی تنازعات کی سماعت کر رہا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں۔ تاہم 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کے حجم کے بارے میں متعدد اور متضاد اندازے سامنے آئے۔تب اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے پہلے تو منجمد ایرانی اثاثوں کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر بتائی۔مگر بعدمیں یہ تخمینہ کم کرتے ہوئے اسے 50 سے 60 ارب ڈالر کے قریب قرار دیا۔جبکہ اسی برس ایران کے مرکزی بنک نے امریکہ سے باہر منجمد ایرانی اثاثوں کی مالیت 30ارب ڈالر کے لگ بھگ قرار دی ۔ان میں بھارت میں 6ارب ڈالر کے علاوہ متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا میں 23ارب ڈالر شامل تھے۔
ایرانی منجمد اثاثوں کے حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ 2015کے جوہری معاہدے کے تحت اثاثوں کی بحالی سے ایران کو تقریباً 50 سے 60 ارب ڈالر تک کے منجمد فنڈز تک رسائی ملی جو زیادہ تر ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھے گئے تھے۔ تاہم یہ بحالی عارضی ثابت ہوئی اورڈونلڈ ٹرمپ نے2018 میں امریکا کی صدارت سنبھالتے ہی یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔
حالیہ برسوں میںستمبر 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی کے نتیجے میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدےنے ایک بار پھر منجمد ایرانی اثاثوں میں سےتیل آمدنی کے تقریباً چھ ارب ڈالر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم ’رسٹرکٹڈ اکاؤنٹس‘ میں منتقل ہوت ہوئے دیکھے۔ مگر اگلے ہی سال اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعدامریکی پارلیمان نے یہ فنڈز دوبارہ منجمد کر دئیے۔
اب امریکہ۔ ایران امن معاہدے کے طے پانے کی اطلاعات کے ساتھ ایرانی منجمداثاثوں کی بحالی کے معاملے پر فریقین کے درمیان اختلاف کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران اپنے تمام منجمد اثاثوں کی بحالی کے ساتھ حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی امریکی بندش سے ہونے والے نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس کے جواب میں امریکہ نے اپنے عرب اتحادیوں سے جنگ میں ہونے والے نقصانات کے تخمینے مانگ لئے ہیں تاکہ ایرانی منجمد اثاثوں سے انہیں منہا کیا جا سکے۔












