لاہور( پاک ترک نیوز) گھروں میں لگے جدید اسمارٹ ٹی وی اب صرف ٹی وی نہیں رہے بلکہ مکمل کمپیوٹر بن چکے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ ایک اہم عادت بھول جاتے ہیں، اور یہی غلطی ان کے مہنگے ٹی وی کی رفتار اور تصویر دونوں خراب کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ ٹی وی کو کم از کم مہینے میں ایک بار ضرور ری اسٹارٹ کرنا چاہیے۔ جیسے کمپیوٹر ری اسٹارٹ کرنے سے میموری صاف ہوتی ہے، بیک گراؤنڈ پراسیس بند ہوتے ہیں اور آپریٹنگ سسٹم دوبارہ فعال ہوتا ہے، ویسے ہی ٹی وی میں بھی یہ عمل کارکردگی بہتر بناتا ہے، معمولی خرابیوں کو ختم کرتا ہے اور سافٹ ویئر یا فرم ویئر اپ ڈیٹس کو صحیح طریقے سے انسٹال ہونے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے موبائل فون یا کمپیوٹر کو ری اسٹارٹ کرنا ضروری ہوتا ہے، ویسے ہی اسمارٹ ٹی وی کو بھی کم از کم مہینے میں ایک بار مکمل ری اسٹارٹ کرنا چاہیے۔ اس عمل سے نہ صرف رفتار بہتر ہوتی ہے بلکہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس بھی صحیح طریقے سے انسٹال ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اسمارٹ ٹی وی کو باقاعدگی سے ری اسٹارٹ نہ کیا جائے تو اس کی میموری بھر جاتی ہے، بیک گراؤنڈ ایپس چلتی رہتی ہیں اور سسٹم سست پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویڈیوز اٹکنے لگتی ہیں، یوٹیوب یا نیٹ فلکس ہینگ ہونے لگتے ہیں اور تصویر کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔
ٹی وی کو صرف ریموٹ سے بند کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر اسمارٹ ٹی وی مکمل بند ہونے کے بجائے اسٹینڈ بائی موڈ میں چلے جاتے ہیں۔ اصل ری اسٹارٹ کے لیے پاور بٹن چند سیکنڈ تک دبانا ضروری ہوتا ہے تاکہ سسٹم مکمل طور پر دوبارہ لوڈ ہو سکے۔
اگر ٹی وی مسلسل مسئلہ کر رہا ہو تو پاور سائیکل کا طریقہ اپنا یا جا سکتا ہے،جس میں میں ٹی وی بند کر کے پلگ نکالا جاتا ہے اور چند سیکنڈ بعد دوبارہ آن کیا جاتا ہے۔ اس سے اندرونی سرکٹس مکمل طور پر ریفریش ہو جاتے ہیں۔
ماہرین نے تصویر بہتر بنانے کے لیے بھی کئی اہم مشورے دیے ہیں۔غلط ایچ ڈی ایم آئی پورٹ یا کم معیار کی ایچ ڈی ایم آئی کیبل استعمال کرنے سے فور کے اور ایچ ڈی آر جیسی جدید ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ نہیں ملتا ،اس لیے دو اعشاریہ ایک ایچ ڈٰ ایم آئی پورٹ اور کیبل استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔
اس طرح ٹی وی کی پکچر سیٹنگ بھی انتہائی اہم ہیں ،،سپورٹس موڈ ،مووی موڈ ،سینما موڈ جیسی سیٹنگ مختلف قسم کے مواد کےلیے الگ تجربہ فراہم کرتی ہیں ،جبکہ برائیٹ نیس ،کانٹراسٹ الگ الگ تجربہ فراہم کرتی ہیں ،اپنی پسند کے مطابق تبدیل کر کے تصویر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
موشن سموتھنگ نامی فیچر بھی کئی ٹی وی میں تصویر کو مصنوعی بنا دیا ہے ،اس لیےماہرین اسے بند کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ٹی وی کے پیچھے ایل ای ڈی لائٹس لگانے سے بھی دیکھنے کا تجربہ بہت بہتر ہوتا ہے ،اسے بائیس لاٹننگ کہا جاتا ہے جو آنکھوں پر دباؤ کم کرتی ہے اور تصویر کو گہرا اور واضح محسوس کراتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹی وی کے سامنے کھڑکیاں یا تیز روشنی ہو تو اسکرین پر ریفلیکشن پیدا ہوتی ہے، جس سے تصویر دھندلی لگنے لگتی ہے۔ اسی لیے ٹی وی کو مناسب زاویے اور درست فاصلے پر رکھنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ ایچ ڈی آر اور ڈولبی ویثں جیسےفیچرز کو آن کرنا بھی فلموں اور ڈراموں کی تصویر کو زیادہ حقیقت کے قریب بنا دیتا ہے، لیکن اس کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ اور اچھی اسٹریمنگ ڈیوائس بھی ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی اسکرین کو باقاعدگی سے مائیکرو فائبر کپڑے سے صاف کرنا چاہیے کیونکہ دھول کی معمولی تہہ بھی تصویر کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ بجلی بچانے کے لیے ایکو موڈ استعمال کرتے ہیں لیکن یہی موڈ اکثر تصویر کی چمک اور کارکردگی کم کر دیتا ہے،اس لیے فلمیں یا گیمز دیکھنے کے لیے اسے بند رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔






