
از: سہیل شہریار
معرکہ حق کے تین ماہ بعد بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ اس مختصر جنگ میں ہندوستان نے جھڑپوں کے دوران پانچ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور ایک دوسرے فوجی طیارے کو مار گرایا تھا۔ ہندوستان کی فضائیہ کے سربراہ نے ہفتے کے روز بنگلور میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ اور یہ مختصر مگر بدترین فوجی تنازعہ کے بعدبھارت کی اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے اس طرح کا پہلا عوامی دعویٰ تھا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایک بھی پاکستانی طیارے کو گرایا یا تباہ نہیں کیا۔خدانخواستہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو مودی سمیت ساری بھارتی حکومت اور میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا ۔
تقریب سے اپنے خطاب میں اے پی سنگھ نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم پانچ لڑاکا طیاروں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اور ایک بڑا طیارہ جو کہ نگرانی کا طیارہ ہو سکتا ہے۔پاکستانی سرحد کے اندر 300 کلومیٹر (186 میل) کے فاصلے پر مار گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ درحقیقت زمین سے فضا میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی ہلاکت ہے۔اے پی سنگھ کے اس مضحکہ خیز دعوے پرتقریب میں شریک لوگوں کی طرف سے تالیاں بجائی گئیں جن میں فضائیہ کے افسران، سابق فوجی و حکومتی اہلکار اور صنعتکار شامل تھے۔
سنگھ نے گرائے جانے والے لڑاکا طیاروں کی قسم کا ذکر نہیں کیا، لیکن کہا کہ فضائی حملوں نے ایک اضافی نگرانی والے طیارے اور "چند ایف۔16طیاروں کو بھی نشانہ بنایا جو جنوب مشرقی پاکستان میں دو فضائی اڈوں پر ہینگروں میں کھڑے تھے۔
https://www.youtube.com/watch?v=Y0cVuLT0HL8&t=15s
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے اس دعوے کےجواب میں ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع نے بھارت پر بے ایمانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سچائی کی بات ہے تو دونوںملک اپنے طیاروں کی انوینٹریوں کو آزادانہ تصدیق کے لیے کھولنے دیں۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ مگراس طرح کے مزاحیہ بیان جو گھریلو سیاسی مصلحت کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔درحقیقت جوہری ماحول میں تزویراتی تخمینوں میںغلطی سے سنگین خطرات کو بڑھاتے ہیں۔
پاک فضائیہ جو بنیادی طور پر چینی ساختہ جیٹ طیاروں اور امریکی ایف۔ 16 طیاروں پر مشتمل ہے، اس سے قبل اس بات کی تردید کر چکی ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان 7-10 مئی کی لڑائی کے دوران بھارت نے کسی بھی پاکستانی طیارے کو مار گرایا تھا۔امریکی حکام نےبھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پاکستان کے اندرکسی ایف۔16 طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جھڑپوں کے دوران چھ ہندوستانی طیارے مار گرائے جن میں ایک فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارہ بھی شامل تھا۔ ہندوستان نے کچھ نقصانات کو تسلیم کیا ہے لیکن چھ طیارے کھونے سے انکار کیا ہے۔
فرانس کے فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلینگر نے کہا تھا کہ انہوں نے ایک رافیل سمیت تین ہندوستانی لڑاکا طیاروں کے مارے جانے کے شواہد دیکھے ہیں۔












