لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کی سیاست میں ہلچل،بلدیاتی انتخابات میں بدترین دھچکا، اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔۔۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اپنی ہی جماعت کے نشانے پر آ گئے ۔ لیبر پارٹی کے اندر بغاوت کی چنگاریاں بھڑک اٹھیں۔۔۔ 71 اراکینِ پارلیمنٹ نےبرطانوے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیلئے سیاسی زمین تنگ ہونے لگی۔۔۔ بلدیاتی انتخابات میں شکست نے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔۔۔ حکمران جماعت لیبر پارٹی کے اندر شدید بے چینی پھیل گئی۔۔۔ لیبر پارٹی کے 71 اراکین پارلیمنٹ نے کیئر اسٹارمر پر قیادت چھوڑنے کیلئے دباؤ بڑھا دیا۔۔۔ یہاں تک کہ کابینہ کے اندر سے بھی اختلافی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
برطانوی وزیرداخلہ شبانہ محمود اور دیگر اہم شخصیات نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح ٹائم لائن مانگ لی ۔
برطانیہ میں سیاسی بحران اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب پانچ پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔۔۔ جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کرگیا کہ کیا کیئر اسٹارمر اپنی ہی جماعت کا اعتماد کھو چکے ہیں؟
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق آج ہونے والے اہم کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔۔۔ ویسٹ منسٹر کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ برطانیہ ایک نئے قیادت کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ادھر شدید دباؤ کے باوجود کیئر اسٹارمر نے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا۔۔۔ مخالفین کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ میں کہیں نہیں جا رہا ۔
کیئر اسٹارمر نے بلدیاتی الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج انتہائی مشکل تھے۔۔۔ ہم نے اپنے بہترین نمائندوں کو کھو دیا، مگر اب لوگوں کو امید دلانے کی ضرورت ہے ۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ پر شک کرنے والوں کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔۔۔ حکومت کو مزید اختیارات دینے کیلئے اسی ہفتے نئی قانون سازی بھی لائی جائے ۔
انہوں نے سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں قیادت کی مسلسل تبدیلی نے برطانیہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔۔۔ اب ملک مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بڑھتی مہنگائی، معاشی دباؤ، عوامی بے چینی اور مقامی انتخابات میں ناکامی نے لیبر پارٹی کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ پارٹی کے اندر کئی رہنما اب نئی قیادت کی تلاش میں دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت پر تابڑ توڑ حملے کررہی ہیں۔۔۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کیئر اسٹارمر کا اقتدار کسی بھی وقت خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سوال اب یہ ہے کہ کیا کیئر اسٹارمر پارٹی بغاوت کا مقابلہ کر پائیں گے؟۔۔۔ کیا برطانیہ ایک نئے سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے؟۔۔۔ اور کیا ویسٹ منسٹر میں اقتدار کی نئی جنگ شروع ہونے والی ہے؟۔۔۔ آنے والے دن برطانوی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔












