دبئی ( پاک ترک نیوز) اوپیک کو بڑا دھچکا ، 59سالہ اتحاد خطرے میں پڑ گیا ،،سب سے اہم کھلاڑی نکلنے کو تیار ،متحدہ عرب امارات کےاوپیک سےنکلنے کی خبر نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی،کیا امارات کے فیصلے سے تیل کی قیمت بڑھ جائے گی۔
اوپیک جو کئی دہائیوں سے تیل کی قیمتوں اور پیداوار کو کنٹرول کرنے والا سب سے طاقتور اتحاد سمجھا جاتا ہے، اس کی بنیاد اجتماعی مفادات اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اعتماد مختلف ممالک کے معاشی مفادات اور پیداوار کی صلاحیتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کمزور پڑتا نظر آ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا معاملہ اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برسوں میں اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اس کی یومیہ پیداوار کی صلاحیت تقریباً پانچ ملین بیرل تک جا پہنچی ہے، مگر اوپیک پلس کے تحت اسے تین اعشاریہ دو ملین بیرل کے قریب محدود رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ایک ایسے معاشی دباؤ کی علامت ہے جس میں ایک ملک اپنی مکمل صلاحیت کے باوجود اپنی پیداوار بڑھانے سے قاصر ہے۔
یہ فیصلہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا اور اندازوں کے مطابق ایک وقت میں روزانہ 10 ملین بیرل تک برآمدات متاثر ہوئیں، یو اے ای کو خلیجی انفراسٹرکچر پر حملوں اور علاقائی تنازعات کے باعث اضافی دباؤ کا سامنا بھی رہا، جس سے اوپیک پلس کے اندر اعتماد مزید کمزور ہوا۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں تیل کی طلب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں جغرافیائی سیاست بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے بعد کئی خلیجی ملکوں نے توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل راستے تلاش کرلیے۔
اگر فرض کر لیں امارات واقعی اوپیک سے نکل جاتا ہے تواس کےاثرات ملک تک محدود نہیں رہیں گے ۔ یہ فیصلہ اوپیک کے اندر طاقت کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے، کیونکہ یو اے ای کا شمار بڑے برامد کنندگان میں شمار ہو تا ہے اس کے بعد دیگر ممالک بھی اپنے مفادات کے تحت اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔
دوسری طرف روس جیسے ممالک کا اوپیک پلس میں رہنے کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی یہ اتحاد مکمل طور پر ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار نہیں۔ تاہم دراڑیں ضرور پڑ چکی ہیں، اور یہی دراڑیں مستقبل میں کسی بڑے بریک ڈاؤن کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور توانائی کی سیاست بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امارات اوپیک چھوڑے گا یا نہیں۔، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اوپیک اپنے موجودہ ڈھانچے میں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے گا












