تہران ( پاک ترک نیوز) امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باعث ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہو گئی جس کے بعد بلیک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے بدلے تقریباً 18 لاکھ ریال تک کی شرح دیکھی جا رہی ہے، جو ملکی تاریخ کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔جس کے بعد ایران میں معاشی بے چینی اور عوامی ردعمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
کرنسی ٹریک کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق صرف دو ماہ قبل، جب خطے میں کشیدگی کا آغاز ہوا تھا، ایک ڈالر تقریباً 17 لاکھ ریال کے برابر تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں ریال کی قدر میں تیزی سے کمی جاری ہے، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق امریکا جانب سے عائد سخت پابندیوں، ڈالر کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ، جس کے نتیجے میں مقامی کرنسی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ایران میں کاروباری سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور خطے میں کشیدگی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب حیران کن طور پر عوام کی ایک بڑی تعداد اس گرتی ہوئی کرنسی کو خریدنے میں مصروف ہے۔ شہریوں کا خیال ہے کہ ریال اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور مستقبل میں اس کی قدر میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے انہیں منافع حاصل ہوگا۔
تاہم ماہرین اس رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کمزور ہوتی کرنسی کی خریداری دراصل ایک قسم کی سٹے بازی ہے، جس میں فائدے سے زیادہ نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر معاشی حالات مزید خراب ہوتے ہیں یا پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو ریال کی قدر میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی کرنسی کی مضبوطی کا انحصار ملک کی معاشی پالیسیوں، سیاسی استحکام اور عالمی تعلقات پر ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں ایران کو ان تینوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے، پابندیوں میں نرمی ہوتی ہے اور معیشت میں استحکام آتا ہے تو ریال کی قدر میں بہتری ممکن ہے، تاہم فی الحال ایسا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں۔یوں موجودہ صورتحال میں ایرانی ریال کی خریداری ایک پرخطر قدم تصور کی جا رہی ہے، جس میں ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ نقصان کے امکانات موجود ہیں۔
ماہرین نے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات میں جذباتی فیصلوں کے بجائے محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔












