اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) یورپ بھی پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال ریکو ڈک منصوبے میں شمولیت کا خواہاں ہے۔
یورپی یونین کے قرض فراہم کرنے والے ادارے یورپین انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے ریکوڈک سونے اور تانبے کے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ اہم معدنیات تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
یورپی یونین پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل منرلز نواز احمد ورک نے کہا اس منصوبے کی 6 کھرب ڈالر مالیت کے اندازے کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔یہ تفصیلی سروے پر مبنی نہیں، تاہم اس میں معدنی وسائل کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک کے عہدیدارمارکو ارینا نے کہا ادارہ اس منصوبے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت میں دلچسپی رکھتا ہے،جبکہ یورپ کی گرین اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے اہم معدنیات کے حصول میں بھی حصہ چاہتا ہے۔
پاکستان نے اس منصوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ٹیکس مراعات بھی پیش کی ہیں تاہم کنٹریکٹرز نے سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس پر وزارت توانائی اور فنانس ڈویژن کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے پر 5.6 سے 6 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے مزید 3.3 سے 3.6 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ موجودہ منصوبہ بندی کے تحت پیداوار کا آغاز 2028 کے آخر تک متوقع ہے، تاہم حالات کے مطابق اس ٹائم لائن میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔











