واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا نے نان امیگرنٹ ویزا درخواست دہندگان کے لیے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے 2 نئے سوالات شامل کر دیئے۔
برطانوی اخبار دی گارجین نے انکشاف کیا ہے کہ ویزا انٹرویو کے دوران تمام درخواست دہندگان سے 2 نئے سوالات پوچھے جائیں گے، کیا آپ کو اپنے ملک میں کسی نقصان یا بدسلوکی کا سامنا رہا ہے؟ کیا آپ کو اپنے ملک واپس جانے پر کسی نقصان یا بدسلوکی کا خوف ہے؟
حکام کے مطابق اگر کوئی درخواست گزار ان سوالات کے جواب میں ہاں کہتا ہے یا جواب دینے سے گریز کرتا ہے تو اس کا عارضی ویزا مسترد کیے جانے کا امکان یقینی ہو گا۔نئی پالیسی کا اطلاق تمام نان امیگرینٹ ویزا کیٹیگریز پر ہو گا جن میں سیاحتی، تعلیمی، ایچ ون بی، ٹیک ورکرز، زرعی مزدور اور کاروباری افراد شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں ان کیٹیگریز میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ ویزے جاری کیے گئے۔۔ قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ اصول حقیقی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، نئی پالیسی ایسے افراد کو بھی روک سکتی ہے جو گھریلو تشدد، صحافتی دھمکیوں یا مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا شکار ہوں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی قوانین اور 1951ء کے ریفیوجی کنونشن کے تحت پناہ کے حقوق کسی فرد کے داخلے کے طریقہ کار یا ویزا انٹرویو میں دیے گئے بیان پر منحصر نہیں ہوتے، تاہم نئی پالیسی ان قانونی تحفظات کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دی جا رہی ہے۔












