لاہور( پاک ترک نیوز) دریاؤں کے اوپر پل اور زیر زمین ٹنل کا زمانہ ہوا پرانا، ناروے میں پانی کے اندر تیرتی ہوئی ٹنل بنانے کی تیاری شروع کر دی گئی۔
ناروے نے سمندر کے نیچے سڑک کیلئے سرنگ بنانے کا جدید انجینئرنگ کا حیران کن منصوبہ بنا لیا ،منصوبے کے تحت سمندر کے چٹان کو کاٹ کر دنیا کی سب سے بڑی اور گہری زیرِ سمندر سڑک کی سرنگ تعمیر جائے گی ،تیرنے والے پل کے ساتھ دریا کی تہہ میں موجود چٹانوں میں ڈرل کر کے دنیا کی سب سے گہری اور زیر سمندر سرنگ تعمیر کی جائے گی۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد 21 گھنٹے کا سفر کم ہو کر صرف 10 گھنٹے رہ جائے گا۔یہ ٹنل ستائیس کلو میٹر لمبی اور سمندر کی سطح سے 392 میٹر نیچے ہو گی،یہ ٹنل ناروے کے مغربی ساحل پر موجود سات فیری کراسنگز کی جگہ لے گی 21 گھنٹے کے سفر کو تقریباً نصف کر دے گی۔
اس وقت سفر کرنے کے لیے ڈرائیورز کو 21 گھنٹے درکار ہوتے ہیں، اور انہیں سات مختلف فیری کراسنگز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو خراب موسم میں بند بھی ہو جاتی ہیں۔
سمندر کی تہہ میں بننے والی یہ ٹنل انسان کی جدت، ہمت اور ٹیکنالوجی پر عبور کی ایک شاندار مثال ہے جو ناممکن کو ممکن بنا رہی ہے۔
منصوبےسے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بن جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ناروے کی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ دنیا بھر میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک نئی مثال بھی قائم کرے گا۔







