انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں تو ترکیہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے عمل میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ علاقائی استحکام، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور انسانی ہمدردی کے اصولوں سے جڑا ہوا ہے، جس پر انقرہ سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ایک حالیہ بیان میں ہاکان فیدان نے کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اگر اس اہم گزرگاہ میں بارودی سرنگیں موجود ہوں یا جہاز رانی کے لیے خطرات پیدا ہوں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کرے گا جو تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو۔ترک وزیر خارجہ کے مطابق بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں ہوگا بلکہ اس میں مختلف ممالک کی تکنیکی اور دفاعی ٹیمیں شریک ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی، بحری مہارت اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اگر مناسب حالات پیدا ہوئے تو ترکیہ اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لے کر کردار ادا کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل دنیا کی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ماضی میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران اس علاقے میں متعدد بار بحری سلامتی کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر United States اور Iran کے درمیان سفارتی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ پورے خطے کے لیے مثبت اشارہ ہوگا۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا ایک اہم ترجیح بن سکتی ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ترکیہ نے ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور اب اس بیان کو بھی اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات میں پیش رفت اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گی۔












