لاہور( پاک ترک نیوز) کیا ایک خفیہ “فالس فلیگ آپریشن” پوری دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے؟ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ میں جھونکنے والا ہے؟ کیا سیز فائر صرف ایک دھوکا ہے؟ کیا ایران امریکہ مذاکرات کا عمل سبوتاژ ہو سکتا ہے ؟حالیہ انکشافات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ ایسا حملہ کروایا جائے جس کا الزام کسی اور پر ڈالا جا سکے۔یہ منصوبہ کیا ہے؟ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سیز فائر کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ بنا رہے ہیں۔
مبینہ طور پر ایران کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، اور پھر دنیا کو یہ باور کروایا جائے گا کہ یہ حملہ امریکا نے کیا ہے۔ اگر ایسا ہوا، تو ایران کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب خطہ مکمل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی خاموش نہیں بیٹھا۔ ایرانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ان کی کسی بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے کی بندرگاہیں محفوظ نہیں رہیں گی۔ یعنی ایک چنگاری پورے خلیج کو جنگ میں جھونک سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کو بندرگاہوں پر حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو شک سیدھا امریکا پر جائے گا، اور یہی وہ چال ہے جو صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ “فالس فلیگ آپریشن” ایک ایسی خطرناک حکمتِ عملی ہے جس میں دشمن کو پھنسانے کے لیے حقیقت کو بدل کر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو نہ صرف سیز فائر ختم ہوگا بلکہ عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔












