بیروت ( پاک ترک نیوز) جنوبی لبنان کے ایک چھوٹے سے گاؤں صریفا میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک معصوم شیرخوار بچی "تالین سعید” جو ابھی 2 سال کی بھی نہیں ہوئی تھی، اپنے ہی والد کے جنازے میں شامل تھی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ یہی جنازہ اس کی اپنی زندگی کا آخری لمحہ بن جائے گا۔
اچانک فضا میں گرجتی آوازیں اور پھر ایک ہولناک دھماکا۔ اسرائیلی فضائی حملے نے چند لمحوں میں ایک پورے خاندان کو مٹی میں ملا دیا۔ بچی کے دادا ناصر سعید کی آنکھوں میں آنسو ہیں، مگر سوال اس سے بھی بڑا ہے: "اگر اسرائیل میں کسی بچے کو زخم آ جائے تو پوری دنیا کھڑی ہو جاتی ہے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟”
یہ الفاظ نہیں، ایک ٹوٹے ہوئے دل کی چیخ ہیں۔ اس حملے میں ایک اور ننھی بچی آئیلین زخمی حالت میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ گھر میں ماتم ہے، فضا میں چیخیں ہیں، اور ہر آنکھ میں وہ سوال جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ لبنان میں جاری بمباری نے اب تک ہزاروں زندگیاں نگل لی ہیں، جن میں سینکڑوں بچے شامل ہیں۔ ایک بچی جو جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی ماری گئی۔
کیا یہی انسانیت ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟ یا دنیا واقعی خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ یہ درد ابھی باقی ہے۔












