لاہور( پاک ترک نیوز) کیا ہم واقعی وہی ہیں جو ہم نظر آتے ہیں؟یا ہماری اصل پہچان کہیں چھپ گئی ہے؟یہ سوال صرف معاشرے کا نہیں, ہر فرد کا ہے ،جو ہم بولتے ہیں،کیا واقعی وہی سوچتے بھی ہیں؟یا حقیقت کچھ اور ہے؟دل میں کچھ، زبان پر کچھ اور,آج ہم جانیں گے عوام کے دل کی وہ بات… جو اکثر چھپی رہ جاتی ہے۔
یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں سچ اکثر چھپ جاتا ہے ،لوگ ہنستے ہیں مگر اندر سے پریشان ہوتے ہیں، ہم نے سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں جا کر لوگوں سے پوچھا وہ سوال،جو شاید کوئی کھل کر نہیں پوچھتا ،لوگوں کے جواب حیران کن تھے ،کچھ نہیں کہا ہم صرف دکھاوا کرتے ہیں، اصل میں تو سب پریشان ہیں،کسی نے کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے، خوشی بعد میں آتی ہے اور کچھ آوازیں ایسی بھی تھیں کہ ہم بس لوگوں کے لیے جیتے ہیں، اپنی مرضی سے نہیں۔
عوامی رائے کے مطابق ہم خوش تو ہیں لیکن مکمل نہیں،اصل میں ہم سچ بولنے سے ڈرتے ہیں،زندگی وہ نہیں جو ہم دکھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا نے ایک ایسی دنیا بنا دی ہے جہاں ہر کوئی خود کو خوش ظاہر کرتا ہے مگر حقیقت میں ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔،لوگ اپنی اصل سوچ چھپانے لگے ہیں اور یہی فاصلہ انہیں اندر سے توڑ رہا ہے۔












