پشاور(پاک ترک نیوز)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے گیارہ اکتوبر کو پورے پاکستان سے عوام کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 اکتوبر کو پشاور، ملاکنڈ اور کوہاٹ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، جبکہ ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک شاہراہ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔
شبقدر چوک میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کی معاشی کارکردگی کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ 2018 سے 2022 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 6.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جبکہ صنعت، زراعت اور برآمدات ترقی کر رہی تھیں۔
سہیل آفریدی نے موجودہ معاشی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے غربت، مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح سے متعلق اعدادوشمار پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی تبدیلی کے بعد پاکستان کے معاشی اشاریے منفی سمت میں گئے اور ملک میں ترقی کا سفر رک گیا۔
وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں، فوجی کارروائیوں اور خیبرپختونخوا کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی عدم ادائیگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسی ضروری ہے اور صوبے کے عوام، پولیس اور سکیورٹی اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، آئین کی مسلسل خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کے نتیجے میں موجودہ مسائل نے جنم لیا ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ 2004 سے 2026 تک خیبرپختونخوا میں 14 ہزار انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں اور 22 بڑے فوجی آپریشن کیے گئے، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتائج کا جائزہ لینے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں اور تمام اداروں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ملک کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان میں ہونے والی فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سول انتظامیہ کے اختیارات محدود کرنے اور وسائل ایک جگہ مرکوز کرنے کے نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ مؤقف ان کا ذاتی نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی تحریروں سے ماخوذ ہے۔
سہیل آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ماضی میں اسی جماعت کے دور حکومت میں دہشت گردوں کے لیے ’’مائی بوائز‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار بھی پیش کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے ملک کی معاشی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد، معاشی ترقی کی شرح 2.2 فیصد اور مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں مہنگائی کی شرح 16 فیصد ہونے کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی دہشت گردی کے اشاریے میں پاکستان کی درجہ بندی تشویش ناک ہے اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی ملک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، سیاسی انتقام، آئین کی خلاف ورزیوں اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے سے عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے عالمی بدعنوانی کے اشاریے اور قانون کی حکمرانی سے متعلق درجہ بندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین ہوں گے تو ملک میں انصاف قائم نہیں ہوسکے گا۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت اس کا جائز حصہ نہیں دیا جارہا اور صوبے کے پانچ ہزار ارب روپے سے زائد واجبات باقی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی کارروائیوں سے تباہ ہونے والے گھروں کے لیے چار لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا، لیکن متاثرہ خاندانوں کو رقم کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ حکمرانوں کو ان خاندانوں کی مشکلات کا احساس ہونا چاہیے جو اپنے بچوں کے ساتھ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ڈرون حملوں، فوجی کارروائیوں اور نقل مکانی سے متاثرہ شہریوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور صوبے نے ڈیجیٹل حکمرانی کے شعبے میں پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے تیز رفتار بس سروس اور صوبائی اسمبلی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود صوبے میں مختلف شعبوں میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے سے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق آزاد خارجہ پالیسی، علاقائی تعاون اور قانون کی حکمرانی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے اہم ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان کی قیادت ضروری ہے۔ انہوں نے مختلف سیاسی اور سماجی طبقات سے اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی، قومی خودمختاری اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت ایسی پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہے جن کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوں یا عوام کے حقوق متاثر ہوں۔
انہوں نے ایک بار پھر عوام کو 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دی اور کہا کہ لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے اور مزید اقدامات کا اعلان وہاں کیا جائے گا۔












