لاہور( پاک ترک نیوز) توانائی کے بحران اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کسی بھی ملک کے پاس تیل کے ذخائر کا ہونا انتہائی ضروری ہے ،کس ملک کے پاس کتنے تیل کے ذخائر ہیں ،تفصل سامنے آ گئی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دنیا اس وقت جدید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے، جس نے عالمی ایندھن مارکیٹ اور پٹرول کی قیمتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
موجودہ صورتحال میں چین نے تیل کے ذخائر کے حوالے سے پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ،چین کے پاس اس وقت ایک ہزار تین سو ستانوے ملین بیرل تیل موجودہے،چین کے پاس امریکا، جاپان، او ای سی ڈی یورپ، سعودی عرب، جنوبی کوریا، ایران، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے مجموعی اسٹریٹجک ذخائر سے بھی زیادہ تیل موجود ہے ۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس چار سو تیرہ ،جاپان کے پاس 263، یورپ کے پاس 179،سعودی عرب کے پاس 82 ارب ملین بیرل تیل کے ذخائرہیں۔جنوبی کوریا کےپاس 79،ایران کے پاس 71 ،متحدہ عرب امارات کےپاس 34 اور بھارت کےپاس 21ملین بیرل تیل موجود ہے۔آج دنیا میں ذخیرہ کیے گئے مجموعی تیل کا تقریباً 70 فیصد حصہ انہی ممالک کے پاس موجود ہے جو اس فہرست میں شامل ہیں۔
چین کے وسیع تیل ذخائر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ بیرونی سپلائی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں، پر کس قدر انحصار کرتا ہے۔ جتنا بڑا تیل ذخیرہ ہو گا، اتنی ہی زیادہ لچک ممالک کو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران حاصل ہوتی ہے۔
مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کئی دیگر ممالک بھی بڑے اسٹریٹجک ذخائر رکھتے ہیں، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کا تحفظ اب صرف درآمد کنندگان ہی نہیں بلکہ برآمد کنندگان کے لیے بھی انتہائی اہم بن چکا ہے۔












