نیویارک (پاک ترک نیوز )اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کا موسمیاتی اثر مزید شدت اختیار کرے گا اور دسمبر 2026 میں عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق یہ گزشتہ 1950 کے بعد ریکارڈ کیے جانے والے طاقتور ترین ایل نینو واقعات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے باعث دنیا کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ہے، جبکہ بارشوں کے معمولات میں تبدیلی سے مختلف خطوں میں خشک سالی اور سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے پہلے سے موجود اثرات اس صورت حال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
تنظیم کی سربراہ سیلیسٹے ساؤلو کے مطابق ایل نینو کی صورت حال واضح طور پر قائم ہو چکی ہے اور اس کی شدت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پیش گوئیوں کے مطابق فروری 2027 تک اس کے برقرار رہنے کا امکان تقریباً سو فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ رہا ہے۔ جون 2026 میں یہ فرق معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا، جو اگست میں بڑھ کر 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا۔ اکتوبر سے دسمبر کے دوران یہ فرق تقریباً 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت کا یہ اضافہ دستیاب مشاہداتی ریکارڈ میں غیر معمولی سطح ہوگا۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے، جو عموماً ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور تقریباً نو سے بارہ ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے سے ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے عالمی نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایل نینو نے 2023 اور 2024 کے عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ سن 2024 اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا، جب عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔











