واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی محکمہ دفاع نے جدید جنگی ڈرونز کی تیاری اور استعمال میں تیزی لانے کے لیے اپنی مسلح افواج کے مختلف شعبوں سے ڈرون پائلٹوں کی تلاش شروع کر دی۔ ایک ارب دس کروڑ ڈالر کے اس منصوبے کا مقصد بہترین کارکردگی دکھانے والے ڈرونز کا انتخاب کرکے انہیں بڑے پیمانے پر فوجی استعمال کے لیے تیار کرنا ہے۔
امریکی دفاعی اختراعی یونٹ نے ڈرون ڈومیننس پروگرام کے اگلے مرحلے، جسے گونٹ لیٹ تھری کا نام دیا گیا ہے، کے لیے تقریباً ایک سو پائلٹوں کو شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم منصوبے کا مقصد صرف فوری ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ مختلف فوجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈرون آپریٹرز کا مستقل اندراج بھی تیار کرنا ہے۔پروگرام کی آزمائشی سربراہ ایرن چیری کے مطابق، ایسے فوجی اہلکاروں کو ترجیحی طور پر تلاش کیا جا رہا ہے جنہیں پہلے شخص کے نقطۂ نظر سے اڑائے جانے والے ڈرونز چلانے کا تجربہ حاصل ہے۔ منتخب اہلکاروں کو جدید ترین ڈرونز اڑانے کا موقع ملے گا، جن میں ایسے نظام بھی شامل ہیں جو ابھی تک امریکی فوج میں باقاعدہ شامل نہیں کیے گئے۔ بعض اہلکاروں کو یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرونز کی خصوصی تربیت بھی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا ایل نینو کا موسمیاتی اثر مزید شدت اختیار کرنے کا الرٹ
حکام کے مطابق پائلٹوں کی مہارت کا جائزہ صرف ڈرون اڑانے کی صلاحیت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ جنگی حکمت عملی، ڈرون کے ذریعے ہتھیار لے جانے، طویل فاصلے تک راستہ تلاش کرنے اور شہری علاقوں میں پرواز کرنے کی صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔پروگرام کے تحت مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ چھوٹے ڈرونز کا مقابلہ ہوگا اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر بہترین نظام منتخب کیے جائیں گے، تاکہ امریکی فوج کے لیے ان کا ذخیرہ تیار کیا جا سکے۔












