لاہور( پاک ترک نیوز) جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں وقت الٹا چلتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرِ طبیعیات نے منہدم ہوتے ہوئے نیوٹران ستاروں پر ریاضیاتی تحقیق کی تو حیران کن نتائج سامنے آئے،ڈربن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف کوازولو نیٹل کے محقیقین کے مطابق ان انتہائی خطرناک اور گھنے ستاروں کے اندر وقت بظاہر پیچھے کی طرف چلتا محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ اس مظہر کو براہِ راست دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن ریاضیاتی نتائج اتنے مضبوط اور دلچسپ ہیں کہ ان پر سنجیدگی سے گفتگو کی جا رہی ہے۔
یہ تحقیق یورپی فزکس جرنل سی میں شائع ہوئی، جس میں ایرو آف ٹائم یعنی وقت کے ایک ہی سمت میں آگے بڑھنے کے تصور کا جائزہ لیا گیا۔ عام حالات میں وقت ہمیشہ آگے بڑھتا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ دنیا میں ہر چیز ترتیب سے بے ترتیبی کی طرف جاتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں اینٹروپی کہا جاتا ہے
مثال کے طور پر اگر ایک گلاس گر کر ٹوٹ جائے تو وہ خود بخود دوبارہ نہیں جڑتا، اور نہ ہی کمرے کی حرارت واپس ایک جگہ جمع ہو جاتی ہے۔ ہر عمل ایک ہی سمت، یعنی آگے کی طرف بڑھتا ہے۔
لیکن جب سائنس دانوں نے منہدم ہوتے ہوئے نیوٹران ستارے کو مساوات میں شامل کیا تو صورتحال بدل گئی۔ تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ جیسے جیسے ستارہ سکڑتا گیا، اینٹروپی کم ہوتی گئی، جو ریاضیاتی طور پر وقت کے الٹا چلنے کے مترادف ہے۔
اس تصور کو سمجھنے کے لیے سائنس دان اکثر ٹوتھ پیسٹ کی مثال دیتے ہیں۔ عام حالات میں نچوڑا گیا ٹوتھ پیسٹ دوبارہ خود بخود ٹیوب میں واپس نہیں جا سکتا، لیکن منہدم نیوٹران ستارے کے اندر موجود مساوات کچھ ایسا ہی منظر پیش کرتی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کششِ ثقل ایسا کیوں کرتی ہے؟ اس کی وجہ اینٹروپی کی دو مختلف اقسام ہیں۔ روزمرہ اینٹروپی چیزوں کو پھیلاتی اور توڑتی ہے، جبکہ کششِ ثقل سے جڑی اینٹروپی مادے کو اکٹھا کرکے مزید گھنا بناتی ہے۔ کون سی قوت غالب آئے گی، یہ کششِ ثقل کی شدت پر منحصر ہوتا ہے، اور نیوٹران ستارے اس شدت کی آخری حد کے قریب ہوتے ہیں۔
نیوٹران ستارے کائنات کی عجیب ترین اشیاء میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ دراصل کسی بہت بڑے مردہ ستارے کے مرکز کا بچا ہوا حصہ ہوتے ہیں، جو انتہائی دباؤ کے باعث ایک نہایت گھنے کرۂ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کی کثافت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان کی سطح پر چند گھنٹوں میں چہل قدمی کی جا سکتی ہے، لیکن ان میں سورج سے بھی زیادہ کمیت موجود ہوتی ہے۔
بہت سے معاملات میں یہ عام ستاروں کے بجائے بلیک ہولز جیسے رویے دکھاتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی نیوٹران ستارہ منہدم ہونا شروع ہوتا ہے، ماہرینِ طبیعیات اس کی توانائی کی حالت کو غیر مستحکم” قرار دیتے ہیں، اور محققین نے اسی کیفیت کو اپنے خلائی ماڈل میں شامل کرکے حسابات کیے۔






