پیرس (پاک ترک نیوز)یورپ کے پہلے دوبارہ استعمال ہونے والے خلائی جہاز ’’اسپیس رائیڈر‘‘ کے فل سکیل آزمائشی ماڈل کو لینڈنگ کے تجربے کے دوران حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جب اس کا مرکزی رہنمائی کرنے والا پیراشوٹ کھلنے کے عمل کے دوران الگ ہوگیا اور ماڈل زمین پر جا گرا۔ یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق، واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے آزادانہ تحقیقات جاری ہیں۔
خلائی ویب سائٹ اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق، یہ واقعہ اٹلی کے جزیرے سارڈینیا میں ایک فوجی ٹیسٹ رینج پر پیش آیا، جہاں آزمائشی ماڈل کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے تقریباً 3 کلومیٹر کی بلندی سے گرایا گیا تھا۔
یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق، تجربے کے دوران ابتدائی چھوٹا پیراشوٹ کامیابی سے کھل گیا اور اس نے ماڈل کی رفتار کم کرنا شروع کردی، تاہم اس کے بعد مرکزی، قابلِ رہنمائی پیراشوٹ کھلنے کے عمل کے دوران الگ ہوگیا۔
اس خرابی کے باعث ماڈل کی رفتار کو مزید کم کرنے اور اسے مقررہ مقام پر اتارنے کا نظام کام نہ کرسکا، جس کے نتیجے میں وہ زمین سے ٹکرا گیا۔ ایجنسی کے مطابق، حادثے کے بعد خلائی جہاز کے تمام اجزا بازیاب کرلیے گئے ہیں۔
ای ایس اے کے ترجمان نے بتایا کہ اس سے قبل مختلف وزن والے ماڈلز کے ساتھ کئی تجربات کامیابی سے کیے جا چکے تھے، تاہم اکتوبر کے تازہ تجربے میں پیراشوٹ کھلنے کے عمل کے دوران تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔ تحقیقات کے نتائج آئندہ اقدامات کا تعین کرنے میں مدد دیں گے۔
اسپیس رائیڈر یورپ کا ایک بغیر پائلٹ خلائی جہاز ہے، جسے زمین کے مدار میں سائنسی تجربات اور آلات لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق، یہ خلائی جہاز مدار میں دو ماہ تک قیام کرسکے گا اور بعد ازاں اپنے ساتھ لے جائے گئے تجربات اور آلات کو زمین پر واپس لائے گا۔
اس منصوبے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ خلائی جہاز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے اس کا ڈیزائن اور لینڈنگ سسٹم اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ یہ واپسی کے بعد دوبارہ خلائی مشن کے لیے استعمال ہوسکے۔
روایتی خلائی کیپسول کے برعکس، اسپیس رائیڈر کا ڈیزائن پروں کے بغیر ایسا بنایا گیا ہے جو فضا میں رہتے ہوئے مخصوص انداز میں حرکت کرسکے۔ اس کی لینڈنگ کے لیے ایک قابلِ رہنمائی پیراشوٹ استعمال کیا جائے گا، جس کی مدد سے جہاز کو نسبتاً درست مقام پر اتارنا ممکن ہوگا۔
اسپیس رائیڈر کی تیاری کے لیے لینڈنگ سسٹم کے تجربات انتہائی اہم ہیں، کیونکہ کامیاب واپسی اور محفوظ لینڈنگ ہی جہاز کو دوبارہ استعمال کرنے کی بنیادی شرط ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی کی خلائی نقل و حمل کی ڈائریکٹر جیرالڈین ناجا نے 22 اکتوبر کو ایجنسی کی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تازہ ناکامی سے منصوبے کے بقیہ شیڈول یا اہلیت کی جانچ کے مراحل میں تبدیلی نہیں کرنا پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ اہلیتی تجربات منصوبے کی مجموعی پیش رفت کے لیے فیصلہ کن مرحلے میں رکاوٹ نہیں بن رہے۔ انہوں نے واقعے کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجربات اور تکنیکی توثیق کسی بھی خلائی نظام کی تیاری کا لازمی حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ دورِ حکومت میں 18 ماہ کے دوران 9 لاکھ 80 ہزار تارکینِ وطن ملک بدر
اسپیس رائیڈر کا لینڈنگ سسٹم جانچنے کی مہم 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل پیراشوٹ کھلنے اور خودکار رہنمائی کے نظام کی صلاحیتوں سے متعلق کئی تجربات کامیاب رہے تھے۔







