واشنگٹن(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی 18 ماہ کے دوران تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار تارکینِ وطن کو امریکا سے ملک بدر کیا گیا۔ ان میں سے صرف 20 فیصد افراد ایسے تھے جنہیں کسی جرم میں سزا ہو چکی تھی۔ یہ انکشاف مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ میں ہوا ہے، جسے سابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اعدادوشمار کے شعبے کے سربراہ مارک روزن بلم نے مرتب کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، رپورٹ میں 20 جنوری 2025 سے 31 جولائی 2026 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس عرصے میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے ذریعے ملک بدری اور واپسی کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 80 ہزار رہی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا میں دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے مقیم تارکینِ وطن کی ملک بدری کے 71 فیصد واقعات میں متعلقہ افراد کو کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق، ملک بدری اور واپسی کی کارروائیوں میں تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار افراد کو باقاعدہ طور پر ملک بدر کیا گیا، جب کہ 3 لاکھ افراد کو امیگریشن قوانین کے نفاذ کے تحت واپس بھیجا گیا۔ مزید ایک لاکھ 10 ہزار افراد کی واپسی انتظامی کارروائیوں کے ذریعے عمل میں آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدت میں سالانہ بنیاد پر ملک بدری کی تعداد سابق صدر جو بائیڈن کے دور اور ٹرمپ کی پہلی مدت کے مقابلے میں زیادہ رہی، تاہم یہ تعداد 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ریکارڈ کی جانے والی سطح سے کم ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں اور ملک بدری کی مہم کا مقصد امریکا کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت امیگریشن پالیسیوں سے قانونی کارروائی کے منصفانہ حق اور آزادیٔ اظہار کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق نسلی اقلیتوں کو نسلی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے کا بھی خدشہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اپنی دوسری مدت کے دوران 3 لاکھ سے زیادہ امریکی ویزے منسوخ کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کا ٹائر اچانک کیوں پھٹ جاتا ہے؟
ان میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے بعض فلسطین حامی مظاہرین اور قدامت پسند مبصر چارلی کرک کے قتل کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے والے بعض غیر ملکی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی بھی شامل ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے اعتراض کیا ہے۔






