
از: سہیل شہریار
مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حکومت کی جانب سے ملکی بینکوں سے قرض لینے میں گزشتہ سال کے تقابل میںتیزی سےکمی آئی ہے۔ رواں مالی سال 2026 کے پہلے نصف حصے کے دوران حکومتی قرضوں کواتارنےکے لیے 672 ارب روپےحاصل کیے گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے اختتام پر حکومت کا اندرون ملک بنکوں سے چھ مہینوں میں لیا گیا قرضہ 672 ارب روپے تک محدود ہے ۔جبکہ پچھلے مالی سال2025 کی اسی مدت میںقرض اتارنے کے لئےبنکوں سے لی گئی رقم کی مالیت 1700 ارب روپے تھی ۔
تاہم رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں حکومت کے بنکوں سے بھاری قرضے لینے کی توقع کی جا رہی ہے۔ کیونکہ حکومت کو محصولات کی کمی کی وجہ سے لیکویڈیٹی کی دستیابی میں مسائل کا سامنا ہے۔اورحکومتی مالیات کے انتظام کا طے شدہ اصول ہے کہ ایسی صورتحال میں حکومت اپنے مالیات کو متوازن ں رکھنے کے لیے بینکوں پر انحصار کرتی ہے۔
مرکزی بنک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں خصوصاً سال کے آخری حصے میں وفاقی حکومت کے ڈیویڈنڈ کی وصولیوںمیں تیزی سے اضافہ ہوا۔اس سے تقریباً 2700 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل ہوئے جن سے ملکی خزانے کو اہم مالیاتی ریلیف حاصل ہوا۔
سٹیٹ بنک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2025 کے آخر تک بینکوں کی مختلف حکومتی اکاؤنٹس میںمجموعی سرمایہ کاری 36000 ارب روپے سے تجاوز کر چکی تھی۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملکی قرضوں کا بڑا حصہ بینکنگ سیکٹر سے آتا ہے۔ یہ معمول ہے کہ مالیاتی خسارے کا تقریباً 80 فیصد بینک قرضے کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔مالی سال 2025 میں پاکستان کے کل مالیاتی خسارے کا تقریباً 91 فیصد ملک کے مالیاتی ذرائع سے پورا کیا گیا جس میں بینکوں کا اہم کردار تھا۔
بنکاری کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لئے بینکوں پر انحصار ایک مستقل رجحان رہا ہے کیونکہ بیرونی سرمایہ کاری اکثر اہداف سے کم رہتی ہے۔اور موجودہ حکومت کے لئے مالی سال 2023 کو سب سے مشکل سال تصور کیا جاتا ہے۔جب بیرونی مالیاتی دباؤ نے حکومت کو مالیاتی فرق کوپورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لینے پر بہت زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کیا۔
حال ہی میںعالمی بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ترقیاتی مالی وسائل کو مستحکم بنانے کے لئے 70کروڑ ڈالرکی منظوری دی ہے۔ جن میں 10کروڑ ڈالر صوبہ سندھ کے لئے رکھے گئے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری ایک کثیر مدتی پروگرام کا حصہ جس کے تحت ملک کو مجموعی طور پر 1.35ارب ڈالر فراہم کئے جائیں گے۔












