واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی خفیہ ادارے نے نائن الیون حملوں سے قبل اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے متعلق کئی اہم صدارتی بریفنگ دستاویزات جاری کر دی ہیں۔یہ دستاویزات نائن الیون حملوں کی پچیسویں برسی کے موقع پر خفیہ ریکارڈ سے نکال کر عوام کے لیے جاری کی گئیں۔ دستاویزات میں انٹیلی جنس حکام کی جانب سے حملوں سے قبل اسامہ بن لادن کی نقل و حرکت، اس کے معاون نیٹ ورک اور القاعدہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں نائن الیون حملوں کو 25 سال مکمل، دنیا بدل دینے والے سانحے کی تلخ یادیں آج بھی تازہ
جاری کردہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی حکام کو اسامہ بن لادن کے نیٹ ورک اور اس سے وابستہ افراد کے بارے میں مختلف معلومات حاصل تھیں۔ حکام کو امریکی اہداف کے خلاف ممکنہ حملوں کے خطرات پر بھی تشویش تھی۔دستاویزات میں القاعدہ کے امریکا اور دیگر ممالک میں موجود نیٹ ورک سے متعلق حکام کی معلومات بھی شامل ہیں، جبکہ تنظیم کی مالی معاونت اور کارروائیوں کے لیے رقم کے انتظام سے متعلق تفصیلات بھی سامنے آتی ہیں۔ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سلامتی کے ادارے نائن الیون سے پہلے ہی اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں، اس کے حمایتی نظام اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے تھے۔
یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ان حملوں کے بعد امریکی قومی سلامتی کی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔







